2017-01-10 | سلامتی

دہشت گردوں کے سہولت کار، سرمایہ کار پاکستان کے نشانے پر

از امداد حسین

کامیاب فوجی آپریشن کے بعد، حکومت جنگجوؤں کی مالی امداد کے گٹھ جوڑ کو توڑنے پر توجہ مرکوز کر رہی ہے۔


پاکستانی سیکیورٹی اہلکار 2 جنوری کو کوئٹہ میں سڑک کنارے ایک بم دھماکے کے مقام پر جمع ہیں۔ پاکستانی فورسز دہشت گردی کے سہولت کاروں اور ان کے معتقدین کے درمیان روابط ختم کرنے پر توجہ مرکوز کر رہی ہیں جو ملک کے دوردراز علاقوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ [بنارس خان/اے ایف پی]
پاکستانی سیکیورٹی اہلکار 2 جنوری کو کوئٹہ میں سڑک کنارے ایک بم دھماکے کے مقام پر جمع ہیں۔ پاکستانی فورسز دہشت گردی کے سہولت کاروں اور ان کے معتقدین کے درمیان روابط ختم کرنے پر توجہ مرکوز کر رہی ہیں جو ملک کے دوردراز علاقوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ [بنارس خان/اے ایف پی]
پاکستانی سیکیورٹی اہلکار 2 جنوری کو کوئٹہ میں سڑک کنارے ایک بم دھماکے کے مقام پر جمع ہیں۔ پاکستانی فورسز دہشت گردی کے سہولت کاروں اور ان کے معتقدین کے درمیان روابط ختم کرنے پر توجہ مرکوز کر رہی ہیں جو ملک کے دوردراز علاقوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ [بنارس خان/اے ایف پی]

کامیاب فوجی آپریشن کے بعد، حکومت جنگجوؤں کی مالی امداد کے گٹھ جوڑ کو توڑنے پر توجہ مرکوز کر رہی ہے۔

اسلام آباد -- پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ جاری عسکری کارروائیوں کے ساتھ ساتھ، پاکستان کی انسدادِ دہشت گردی حکمتِ عملی کا اگلا مرحلہ شہری مراکز میں دہشت گردی کے سرمایہ کاروں اور ان جنگجوؤں کے درمیان روابط کو ختم کرنا ہے جن کو وہ ملک کے دوردراز علاقوں میں امداد فراہم کرتے ہیں۔

دہشت گردی پر اکسانے والوں اور اس میں سرمایہ کاری کرنے والوں پر مرکوز مخبری کی بنیاد پر کارروائیوں کا آغاز گزشتہ برس ہوا تھا اور نومبر میں پاکستانی فوج کی کمان میں تبدیلی کے بعد اس میں تیزی واقع ہوئی ہے۔

نئے آرمی چیف، جنرل قمر جاوید باجوہ نے 12 دسمبر کو کور ہیڈکوارٹرز پشاور کے اپنے دورے کے دوران اپنے اس تجدیدی ارتکاز پر زور دیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ دوردراز علاقوں میں دہشت گردوں اور شہری مراکز میں ان کے سہولت کاروں کے درمیان گٹھ جوڑ کو ختم کیا جائے گا "اس کے لیے خواہ کتنی ہی کوشش اور وقت دینا پڑے۔"

عسکری کامیابیوں کی توسیع

تحقیقات ظاہر کرتی ہیں کہ جون 2014 میں عسکری آپریشن ضربِ عضب شروع ہونے کے بعد سے، افغانی سرحد سے ملحقہ شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کی منظم سرگرمیوں میں کمی واقع ہوئی ہے۔

قبائلی علاقہ، جو ماضی میں کئی جنگجو تنظیموں، بشمول تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور حقانی نیٹ ورک کا گڑھ تصور کیا جاتا تھا، اب مکمل طور پر پاکستانی فورسز کے قبضے میں ہے۔

ایک دفاعی تجزیہ کار، اسلام آباد کے لیفٹیننٹ جنرل (ر) طلعت مسعود نے کہا کہ عسکریت پسندوں کو شکست دینے میں ضربِ عضب کی کامیابی پر کوئی بھی شبہ نہیں کر سکتا۔

"ہمیں حتمی نتیجے کا انتظار کرنا ہو گا،" کا اضافہ کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "اب سہولت کاروں اور دہشت گردوں کے درمیان گٹھ جوڑ پر توجہ مرکوز ہے۔"

ایک پالیسی کے طور پر دہشت گردوں کے سہولت کاروں کی گرفتاریوں پر مخصوص معلومات کو صیغۂ راز میں رکھا جاتا ہے۔ بنیادی طور پر خفیہ ایجنسیاں ایسی کارروائیاں انجام دیتی ہیں۔

پاکستانی ادارہ برائے مطالعاتِ تنازعات و دفاع (پی آئی سی ایس ایس) کے مطابق، سیکیورٹی فورسز نے 2016 میں مخبری کی بنیاد پر کم از کم 1،104 کارروائیوں میں 4،000 سے زائد ملزمان -- بشمول دہشت گردوں کے تربیت کاروں، حمایتیوں اور سرمایہ کاروں -- کو گرفتار کیا ہے۔

اسلام آباد کے مقامی تھنک ٹینک نے کہا کہ مزید برآں، سیکیورٹی فورسز نے 859 دہشت گردوں کو ہلاک کیا۔

پی آئی سی ایس ایس کے انتظامی ڈائریکٹر، عبداللہ خان نے گزشہ اپریل میں عبدالرحمان سندھی کی گرفتاری کی نشاندہی کرتے ہوئے، پاکستان فارورڈ کو بتایا، "دہشت گردوں اور ان کے سرمایہ کاروں کے درمیان گٹھ جوڑ کو پہلے ہی ہدف بنایا جا چکا ہے اور نمایاں پیش رفت کی جا رہی ہے کیونکہ ایسے بہت سے انتظامات کو توڑا گیا تھا۔"

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی پابندیوں کی فہرست کے مطابق، سندھی نے "القاعدہ کو سہولت کاری اور مالی خدمات فراہم کی تھیں" اور اس کے پاکستان میں دیگر دہشت گرد گروہوں کے ساتھ روابط تھے۔

مخبری کی بنیاد پر کارروائیوں میں شدت

خان نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں عسکریت پسندی کو شکست فاش دینے کے بعد دہشت گردوں کے سہولت کاروں کے خلاف مخبری کی بنیاد پر کارروائیوں کو شدید کرنے کی وجہ بہت واضح ہے۔

انہوں نے کہا کہ صرف سیکیورٹی کی کارروائیاں مکمل امن اور طمانیت حاصل کرنے کے لیے کافی نہیں ہیں۔

اسلام آباد کے مقامی مرکز برائے تحقیق و دفاعی مطالعات (سی آر ایس ایس) کے انتظامی ڈائریکٹر، امتیاز گل نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے درمیان گٹھ جوڑ کے خلاف مخبری پر مبنی کارروائیاں، بلاشبہ، بارآور ثابت ہوئی ہیں اور نیٹ ورکس کو کمزور کیا ہے۔"

سی آر ایس ایس نے 4 جنوری کو جاری ہونے والی اپنی سالانہ رپورٹ میں کہا کہ درحقیقت، پاکستان میں تشدد سے متعلقہ اموات میں سنہ 2016 میں 44 فیصد کمی واقع ہوئی ہے (ایک سال پہلے کے مقابلے میں) اور سنہ 2014 کے مقابلے میں 66 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

مسئلہ کے کئی مطالعات کا حوالہ دیتے ہوئے، گل نے کہا کہ کچھ سہولت کار عسکریت پسندوں کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں اور اپنے گروہوں کے ساتھ منسلک رہنے میں ان کی مدد کر رہے ہیں اور پاکستان میں اہم مقامات کو ہدف بنانے میں ان کی رہنمائی کر رہے ہیں، جبکہ دیگر صورتوں میں سہولت کار مالی اور انتظامی معاونت فراہم کرتے ہیں۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 1

تبصرہ

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

آپ کی رائے میں کیا آپ کے خاندان کے بچوں کو تعلیم تک مناسب رسائی حاصل ہے؟

نتائج