http://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2016/12/28/feature-01
| تفریح

پشاور میں رباب اکیڈمی امن کی علامت بن گئی ہے

سید عنصر عباس

image

گلاب خیل آفریدی (درمیان میں) 16 دسمبر کو اپنی اکیڈمی میں شاگردوں کو پڑھاتے ہوئے۔ [سید عنصر عباس]

پشاور -- موسیقاروں اور شائقینِ موسیقی کا کہنا ہے کہ پشاور شہر میں رباب اکیڈمی کا کھلنا برسوں کی عسکریت پسندی کے بعد امن کی واپسی اور معمولاتِ زندگی کی بحالی کی علامت ہے۔

طنبورہ نما ساز رباب لکڑی کے ایک واحد ٹکڑے کو تراش کر بنایا جاتا ہے۔ اس کی ایک مختصر سی گردن اور بہت سے تار ہوتے ہیں جو ایک گز پھیر کو چھیڑے جا سکتے ہیں یا اسے بجایا جا سکتا ہے۔

گلاب خیل آفریدی، رباب بجانے کے ایک استاد، نے 13 نومبر کو پشاور کے کنٹونمنٹ کے علاقے میں گلاب رباب اکیڈمی کھولی تھی۔

image

گلاب خیل آفریدی 22 دسمبر کو اپنی اکیڈمی میں طنبورہ نما ساز، رباب بجاتے ہوئے۔ [سید عنصر عباس]

مئی اور جون 2011 میں، عسکریت پسندوں نے اس علاقے میں دو خونریز بم دھماکے کیے تھے۔

گلاب نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "میں پہلے سنہ 2013 میں موسیقی کی اکیڈمی شروع کرنا چاہتا تھا لیکن [اس وقت] دہشت گردی کی لہر کی وجہ سے ناکام رہا۔ اب غالب ہوتے ہوئے انتہاپسندوں سے پاک ماحول نے مجھے رباب کے شائقین کے لیے اکیڈمی کھولنے کے قابل بنا دیا ہے۔"

پورے ملک میں سیکیورٹی آپریشنوں، بشمول آپریشنضربِ عضب، جو جون 2014 میں شمالی وزیرستان میں شروع ہوا تھا اور تاحال جاری ہے، نے امن و امان میں ایسی پیش رفت کا راستہ ہموار کیا ہے۔

اکیڈمی طلباء و طالبات کو رباب اور ہارمونیم، ہاتھ سے بجائے جانے والے ایک ساز، اور روایتی پشتو انداز میں گانے کی تکنیکیں سکھائے گی۔

پشاور کے ایک موسیقار نذیر گل استاد نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "رباب مقامی روایتی آلاتِ موسیقی کا بادشاہ ہے۔"

گلاب، جنہوں نے افتتاحی تقریب میں اپنے فن کا مظاہرہ کیا، ہارمونیم اور گلوکاری کی تعلیم دیں گے۔

پشاور کے مقامی دفاعی تجزیہ کار اور عسکریت پسندی پر تین کتب کے مصنف، خادم حسین نے کہا کہ قبائلی علاقہ جات میں فوجی آپریشنوں نے عسکریت پسندوں کی کمر توڑ دی ہے، جس سے اکیڈمی کھلنے کے قابل ہوئی ہے۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "موسیقی، حسن اور فنونِ لطیفہ ایک متوازن زندگی اور ایک عام انسان کی علامات ہیں جو انسانیت، دوستی اور ہر کسی کے ساتھ میل جول پر یقین رکھتا ہے۔"

انہوں نے کہا کہ لوگ فطرتی طور پر فنونِ لطیفہ اور ثقافت کی طرف راغب ہوتے ہیں، جبکہ انتہاپسند "دوسروں کو اپنی پیروی کرنے پر مجبور کرتے ہیں"۔

حسین نے کہا، "اگرچہ سیکیورٹی فورسز نے عسکریت پسندوں کو شکست دی ہے اور ان کے نیٹ ورکس کو تباہ کر دیا ہے، ہمیں دوگنی رفتار سے انتہاپسندی کی ذہنیت کے خلاف لڑنا ہو گا۔"

موسیقی کا فروغ، پاکستان میں فخر

گلاب، جو سنہ 1977 میں پشاور میں پیدا ہوئے تھے، نے موسیقی میں اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز 12 برس کی عمر میں ہارمونیم سیکھتے ہوئے کیا تھا، لیکن ان کے روحانی مرشد نے انہیں رباب بجانا سیکھنے کا مشورہ دیا۔

وہ خیبرپختونخوا اور وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقہ جات (فاٹا)، نیز لاہور، کراچی، کوئٹہ، اسلام آباد اور ملتان میں اردو اور پشتو کے نامور گلوکاروں کے ساتھ فن کا مظاہرہ کر چکے ہیں۔

گلاب نے کہا، "مجھے سابق صدور پرویز مشرف اور آصف علی زرداری اور سابق وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی کے سامنے فن کا مظاہرہ کرنے کا اعزاز حاصل ہے۔ پچھلے سال، میں نے ترکمانستان میں 14 اسلامی ممالک کے سربراہان کے سامنے فن کا مظاہرہ کیا تھا۔"

20 سے زائد ممالک میں پاکستان کی نمائندگی کر چکے، گلاب نے کہا کہ وہ بین الاقوامی سطح پر امن کا پیغام پہنچانا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا، "بطور پاکستانی، جب میں دیگر ممالک میں موسیقی کے ذریعے اپنے پیارے وطن کی نمائندگی کرتا ہوں تو مجھے فخر ہوتا ہے۔ ہم ایک پُرامن قوم ہیں اور دہشت گردی سے نفرت کرتے ہیں۔"

گلاب نے کہا کہ وہ 100 سے زائد طلباء و طالبات، بشمول مقامی باشندوں، جن میں سے کچھ خواتین ہیں، اور غیر ملکیوں کو رباب سکھا رہے ہیں۔

بیرونِ ملک یا دوردراز بسنے والے شائقینِ رباب کے ذوق کے لیے، وہ آن لائن تعلیم دیتے ہیں۔

32 سالہ چن بادشاہ، جو پشاور میں ایک جنرل سٹور چلاتے ہیں، نے حال ہی میں گلاب رباب اکیڈمی میں داخلہ لیا ہے۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "زمانۂ طالب علمی سے ہی موسیقی میرا جنون رہا ہے۔ اب، گلاب رباب اکیڈمی کی مہربانی سے، مجھے رباب بجانے کی کلاسوں میں مناسب طریقے سے حاضر ہونے کا موقع ملا ہے۔"

انہوں نے کہا، "موسیقی نہ صرف دل کو نرم کرتی ہے اور بری صحبت کی حوصلہ شکنی کرتی ہے بلکہ یہ سکون اور مسرت بھی مہیا کرتی ہے۔"

ضلع نوشہرہ میں سائنس کے ایک استاد، 26 سالہ مقدم علی بھی رباب بجانا سیکھ رہے ہیں۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "میں رباب کی کلاسیں لینے کے لیے ہفتے میں ایک بار نوشہرہ سے آتا ہوں۔ مجھے اپنی ثقافت سے پیار ہے، اور رباب اس کا ایک جزو ہے؛ یہی وجہ ہے کہ میں رباب بجانے کی تکنیکیں سیکھ رہا ہوں۔"

امن کی طرف مراجعت

پشتو گلوکار گلزار عالم نے، سنہ 2013 میں گلاب کی پہلی کوشش کو یاد کرتے ہوئے، رباب اکیڈمی کھلنے کا خیرمقدم کیا۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "ایک قلیل عرصے میں، انہیں مقامی انتہاپسند مذہبی تنظیم کی جانب سے اکیڈمی بند کرنے پر مجبور کر دیا تھا تھا۔"

گلزار نے کہا کہ عسکریت پسندوں کی جانب سے موسیقاروں کو دھمکیوں اور دہشت گردی کی وجہ سے برسوں تک نشتر ہال، پشاور کے ایک ثقافتی اور پیشکاری فنون کے مرکز، کی بندش کی وجہ سے انہیں بھی سنہ 2002 اور 2015 کے درمیان پیشہ ورانہ طور پر نقصان اٹھانا پڑا تھا۔

سنہ 2008 میں، طالبان نے سوات میں گلزار کے دو سازندوں، رباب بجانے والے محبت خان اور ہارمونیم بجانے والے انور گل پر بھی حملہ کیا تھا۔ محبت موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا تھال گل زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے بعد میں انتقال کر گیا تھا۔

گلزار نے کہا کہ انہیں دھمکی آمیز خطوط موصول ہوئے تھے، جن کی وجہ سے وہ ایک عرصے تک کوئٹہ اور کابل فرار ہونے پر مجبور ہو گئے تھے۔

وہ موسیقی پر تحقیق اور موسیقی کی ثقافت کو محفوظ کرنے کے لیے ایک اکیڈمی کھولنے کے لیے پُرامید ہیں کا اضافہ کرتے ہوئے، گلزار نے کہا، "اب، عسکریت پسندوں کے خلاف کامیاب آپریشن ہونے کی وجہ سے، امن و امان کی صورتحال تسلی بخش ہے۔"

انہوں نے کہا، "موسیقی امن، حسن، پیار اور بھرپور ثقافت کی علامت ہے اور شرافت، خوشی اور مثبت فکر کو جنم دیتی ہے۔"

پشاور کے ایک شاعر اور دانش ور ناصر علی سید نے کہا کہ پاکستان صدیوں سے امن، مہمان نوازی اور زرخیز ثقافت کی سرزمین رہا ہے۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "دہشت گردی کو ہمارے خطے پر مسلط کیا گیا تھا، جس نے ہزاروں بے گناہوں کا خون کیا اور ہمارے سماج کے ہر حصے، بشمول موسیقی اور ثقافت کو متاثر کیا۔ اب ہمارا خطہ امن کی طرف واپس لوٹ رہا ہے۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
4
نہیں
تبصرے 22
تبصرہ کی پالیسی
Captcha

برائے کرم رابطہ نمبر؟

جواب

برائے مہربانی اپنا رابطہ نمبر دیں ۔۔۔

جواب

رباب سیکھنا

جواب

Ye accademy kahan ler haii

جواب

میں رباب سیکھنا چاہتا ہوں. آپ کی اکادمی کہاں ہے، برائے مہربانی رابطہ نمبر فراہم کریں.

جواب

برائے مہربانی رابطہ نمبر ارسال کریں

جواب

میں رباب سیکھنا چاہتا ہوں، کیوں کہ یہ مجھے واقعی پسند ہے۔

جواب

میں رباب سیکھنا چاہتا ہوں برائے مہربانی اپنا رابطہ نمبر دیں

جواب

میں رباب سیکھنا چاہتا ہوں، برائے مہربانی مجھے رابطہ نمبر دیں

جواب

مجھے رباب سیکھنا ہے، یہ اکیڈمی کہاں ہے۔۔
برائے مہربانی مجھے رابطہ نمبر فراہم کریں

جواب

Mai bOht bara fane hun rabab ka our mujhe chahye k mai rabab sikho our ye khwahish meri pOri ho jaye

جواب

Mje Rabab b chaiye or sekna b hai.Mein e Rabab ko.or Mein Quetta se o...

جواب

میں کراچی سے ہوں۔۔۔ کیا آن لائن کلاس کا موقع میسر ہے یا نہیں۔۔۔
بہترین جواب کا منتظر
شکریہ

جواب

السلامُ علیکم عزیم گلاب صاحب، میں اس اکیڈمی میں داخلہ لینا چاہتا ہوں۔ برائے مہربانی مجھے داخلہ کا طریقِ کار اور پتا ارسال کریں۔۔۔ میں آپ کا نہایت ممنون ہوں گا۔
از
منصور احمد

جواب

جنابِ عزیز،
میں رباب اکیڈمی میں شامل ہونا چاہتا ہوں، برائے مہربانی مجھے پتہ اور دیگر معلومات ارسال کریں۔
تسلیمات
ارشاد

جواب

Za rabab chal zda kawal ghawram plz da academy locations pa Kar day.dera manana

جواب

میں رباب سیکھنا چاہتا ہوں۔
مجھے وہاں داخلہ کا پتہ اور طریقہ کار درکار ہے۔

جواب

میں رباب سے متعلق مزید جاننا چاہتا ہوں، میں ابتدائی مراحل میں سے زیادہ تر عبور کر چکا ہوں۔ میں ذیل گانے بجا سکتا ہوں۔

1۔ بیبی شیرینی
2۔ خیبر زلمی
3۔ او سنما
4۔ تازہ تازہ گلونو
5۔ ہم تیرے بن اب رہ نہیں سکتے

میں لندن میں رہتا ہوں اور مزید سیکھنا چاہتا ہوں کیوں کہ مشق ضروری ہے۔

جواب

رباب از حد کلاسیکی سازینہ ہے۔ مجھے رباب پسند ہے، رباب میری زندگی ہے۔ میں آپ سے زیادہ گرویدہ ہوں۔ اچھا شکریہ

جواب

رباب اور مانگئے تاریخی اور روایتی سازینے ہیں اور دنیا بھر میں جانے جاتے ہیں! یہ مقالہ نہایت معلوماتی اور تعلیمی ہے، یہ علاقہ کے لوگوں کو بھائی چارے اور پرامن ماحول کی ترغیب دے گا۔

جواب

پشاور چھاؤنی کے اندر کونسی جگہ ہے، میں شریک ہونا چاہتا ہوں

جواب

بہت خوب
یہ مجھے پسند ہے

بہت پیارا

جواب