| دہشتگردی

پشاور کے دہشتگرد حملے میں بچ جانے والے سات سال بعد انہیں یاد کر رہے ہیں

دانش یوسفزئی


14 دسمبر کو پشاور میں سیّد اسد علی شاہ اپنے والد سید علی شاہ کے جوتوں کے تسمے باندھ رہا ہے۔ بڑے شاہ اکتوبر 2009 میں پشاور کنٹونمنٹ کے علاقہ میں ہونے والے بم دھماکے میں اپنی ٹانگیں کھو بیٹھے۔ [دانش یوسفزئی]

14 دسمبر کو پشاور میں سیّد اسد علی شاہ اپنے والد سید علی شاہ کے جوتوں کے تسمے باندھ رہا ہے۔ بڑے شاہ اکتوبر 2009 میں پشاور کنٹونمنٹ کے علاقہ میں ہونے والے بم دھماکے میں اپنی ٹانگیں کھو بیٹھے۔ [دانش یوسفزئی]

پشاور — سات برس قبل ہونے والے دہشتگرد حملے کے متاثرین اس روز پہنچنے والے درد اور صدمہ اور تب سے انہیں درپیش مشکلات کو یاد کرتے ہیں۔

16 اکتوبر 2009 کو سواتی پھاٹک سے چند میٹر کے فاصلہ پر پولیس کے سپیشل انویسٹیگیشن یونٹ (ایس آئی یو) کے اہلکاروں پر ہونے والے حملے میں 15 افراد جانبحق ہوئے جن میں دو بچے بھی شامل تھے جبکہ 15 دیگر افراد زخمی ہوئے۔

جاںبحق ہونے والوں میں ایک باپ اور اس کی دو بیٹیاں بھی شامل تھیں۔ سید علی شاہ شدید زخمی ہوئے۔

ایک ناقابلِ فراموش تباہی

حملہ کے روز شاہ ایس آئی یو میں اسلحہ خانہ کے کمانڈر کی روزمرہ ڈیوٹی پر تھے۔

انہوں نے فعال ڈیوٹی کے اپنے آخری روز کو یاد کرتے ہوئے پاکستان فارورڈ کو بتایا، ”میں نے تمام اسلحہ چیک کیا۔ میرے اعلیٰ افسران نے مجھے بیٹھنے اور دروازے پر نظر رکھنے کو کہا کیوں کہ میرے ساتھ کانسٹیبل نیا تھا۔“

خیبر پختونخواہ بم ڈسپوزل یونٹ کے اہلکاروں کے مطابق، دھماکہ تقریباً سہ پہر 1 بجے ہوا، جو ایک خودکش حملہ آور نے کیا جو تقریباً 70 کلوگرام دھماکہ خیز مواد سے بھری کار چلا رہا تھا۔

شاہ نے کہا کہ وہ ابتدائی طور پر صدمے میں تھے اور یہ سمجھنے سے قاصر تھے کہ ان کے اردگرد کیا ہو رہا ہے۔ دھماکے میں ان کی ٹانگیں اور دایاں ہاتھ زخمی ہوا۔

انہوں نے کہا، ”میں تکلیف میں تھا اور ڈاکٹروں نے بتایا کہ انہیں میری ٹانگیں کاٹنی ہوں گی،“ انہوں نے مزید بتایا کہ ان کی ٹانگیں کاٹ دینا ہی ان کی زندگی بچانے کا واحد حل تھا کیوں کہ ان کے خراب زخم بھر نہیں رہے تھے۔

اگرچہ انہوں نے اس سانحہ میں جسے وہ ”ناقابلِ فراموش تباہی“ کہتے ہیں، شدید زخموں اور صدمے کا سامنا کیا، لیکن شاہ ایک مثبت نظریہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا، ”یہ میرے اور میرے خاندان کے لیے ایک نعمت ہے کہ میں ابھی تک زندہ ہوں۔“

شاہ کو محکمۂ پولیس سے معمولی پنشن ملتی ہے، اور معذوری کے باوجود وہ ایک پراپرٹی ڈیلر کے طور پر کام کر کے سکول جانے کی عمر کے اپنے چھ بچوں کی کفالت کرتے ہیں۔

ناقابلِ دلیل بربریّت

شاہ دہشتگردی کی شدید مذمّت کرتے ہیں اور انہوں نے کہا کہ وہ جب بھی کسی حملے کا سنتے ہیں، انہیں وہ تکلیف اور خوف یاد آتا ہے جس کا انہوں نے سات برس قبل سامنا کیا۔

انہوں نے کہا، ”میں بہت تکلیف محسوس کرتا ہوں کیوں کہ یہ مجھے ایس آئی یو دھماکے کی یاد دلاتا ہے۔“

شاہ نے کہا، ”اس طرح سے معصوم جانیں لینا کسی بھی مذہب میں ناقابلِ قبول ہے۔ ایسی بربریّت کی کوئی دلیل نہیں ہو سکتی۔ میں ہمیشہ یہ دعا کرتا ہوں کہ کسی کا انجام میرے جیسا نہ ہو۔“

شاہ کے خاندان کا کہنا ہے کہ وہ کوشش کرتے ہیں کہ انہیں ٹیلی ویژن نہ دیکھنے دیں کیوں کہ وہ دہشتگردی کی خبریں سن کر رونے لگتے ہیں۔

سید علی شاہ کے 22 سالہ بیٹے سیّد اسد علی شاہ نے کہا، ”میرے والد ایک مخلص سپاہی تھے؛ انہوں نے ہمیشہ اپنے فرض کو ہر چیز پر ترجیح دی۔“

اس نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، ”مجھے اپنے والد پر فخر ہے۔ انہوں نے ایک نہایت سخت زندگی گزاری۔“

اپنے زخموں کے نتیجے میں شاہ مصنوعی اعضاء استعمال کرتے ہیں اور بیساکھیوں کے ساتھ چلتے ہیں۔

اسد نے کہا کہ بعض اوقات اپنے والد کے تسمے باندھتے ہوئے اسے رونا آ جاتا ہے، جب وہ یاد کرتا ہے کہ کیسے حملے سے قبل اس کے والد اس کے لیے جوتوں کے تسمے باندھتے تھے۔

ہزاروں زندگیوں کی تباہی

دہشتگردوں کی کاروائیوں نے سینکڑوں گھرانے تباہ کر دیے۔ اسد نے کہا، ”معصوم لوگوں کو قتل کرنا شرمناک اور غیر انسانی ہے۔“

شاہ نے کہا کہ وہ خدا سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہر کسی کو دہشتگردی کی تباہی سے محفوظ رکھے۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ، دہشتگردی کی بنیادی وجہ کا مقابلہ کیے بغیر حکومت اس کا خاتمہ نہیں کر سکے گی۔

ساؤتھ ایشیا ٹیررازم پورٹل (ایس اے ٹی پی) کے مطابق، 2003 سے 18 دسمبر 2016 تک پاکستان میں دہشتگردی سے متعلقہ سانحات میں 61,490 سے زائد افراد جاںبحق ہو چکے ہیں۔

اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ حکومت کے کریک ڈاؤن اور ملک میں دہشتگرد اور شدت پسند گروہوں کے خلاف جارحانہ کاروائی کی وجہ سے حالیہ برسوں میں جاںبحق ہونے والے افراد کی تعداد میں کمی واقع ہوئی ہے۔

رواں برس 610 شہری اور 293 سیکیورٹی اہلکار جاںبحق ہوئے، جو گزشتہ دس برس کے دوران کم ترین اموات کی غمّازی کرتی ہیں۔

2009 اور 2012 میں دوبارہ شہری اموات میں اضافہ ہوا جو کہ بالترتیب 2,324 اور 3,007 رہیں۔

اکتوبر 2009 میں ایس آئی یو کے وحشیانہ حملے میں 26 سالہ عامر خان اپنے والد اور دو بہنوں کو کھو بیٹھا۔

عامر کے والد پشاور میں پاک فضائیہ ڈگری کالج میں کام کرتے تھے۔ اس کی ایک بہن وہاں پڑھاتی تھی اور دوسری، 10 سالہ، طالبہ تھی۔ وہ تینوں سکول سے گھر آتے ہوئے دھماکے میں جاںبحق ہو گئے۔

اس نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، ”میں اس دن کو فراموش نہیں کر سکتا۔ میری زندگی دوبارہ کبھی پہلے جیسی نہیں ہو سکتی۔ میں نے سب کچھ کھو دیا اور ابھی تک یقین نہیں آتا کہ یہ سب کچھ اچانک ہو گیا۔“

عامر نے نہ صرف اپنا خاندان بلکہ اپنا مستقبل بھی کھو دیا، کیوں کہ موت کی وجہ سے اسے پڑھائی چھوڑنا پڑی اور اسے اپنے باقی ماندہ اہلِ خانہ کی کفالت کرنا ہے۔

اس نے کہا، ”میری اللہ سے دعا ہے کہ کوئی بھی زندہ شخص میرے تجربہ سے نہ گزرے۔“

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

5
1
نہیں
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی Captcha