|

رواداری

پاکستان کی مسیحی برادری کرسمس سے پہلے امن سے لطف اندوز ہو رہی ہے

مسیحیوں نے بین المذہبی برداشت کو فروغ دینے کے لیے ریلیاں منعقد کیں جب کہ حکومت نے محبت اور ہم آہنگی کا پیغام پھیلانے نے لیے کرسمس امن ٹرین کا آغاز کیا۔

جاوید خان اور اے ایف پی


کراچی میں اکیس دسمبر کو پاکستانی مسیحی لڑکیاں آنے والی کرسمس منانے کے لیے رقص کر رہی ہیں۔ ]آصف حسن/ اے ایف پی[

کراچی میں اکیس دسمبر کو پاکستانی مسیحی لڑکیاں آنے والی کرسمس منانے کے لیے رقص کر رہی ہیں۔ ]آصف حسن/ اے ایف پی[

پشاور - پاکستان کی مسیحی برادری نے ملک بھر کے مختلف شہروں میں کرسمس سے پہلے ریلیاں منعقد کیں تاکہ امن کی واپسی کی تعریف کی جا سکے اور برداشت اور بین المذہبی ہم آہنگی کو فروغ دیا جا سکے۔

اتوار (18 دسمبر) کو مسیحی برادری کی طرف سے پشاور کے صدر بازار میں ایک امن ریلی منعقد کی گئی۔ امن مارچ کا آغاز سینٹ جان کیتھڈرل چرچ سے ہوا۔ شرکاء کی طرف سے مقامی سڑکوں پر مارچ کرنے کے بعد یہ اسی مقام پر ختم ہوئی۔

مارچ کرنے والوں میں مقامی مسلمان بھی شامل تھے جنہوں نے خیرسگالی اور مذہبی ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لیے اس ریلی میں شرکت کی۔

مارچ کرنے والے مردوں اور عورتوں نے بینر اور کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر "پاکستان زندہ باد" اور "خیبرپختونخواہ زندہ باد" کے نعرے درج تھے۔

مارچ کی قیادت کرنے والے بشپ سرفراز پیٹر نے کہا کہ "اس مارچ کا مقصد مذہبی ہم آہنگی کو فروغ دینا اور ملک میں امن اور ترقی کے لیے مل کر کام کرنا ہے"۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ مقصد "برداشت کو فروغ دینا اور لوگوں پر زور دینا ہے کہ وہ ایک دوسرے کے مذہب کو بہتر طریقے سے سمجھنے کی کوشش کریں"۔

اے ایف پی کے مطابق، مسیحی پاکستان کی آبادی کا تقریبا 1.6 فیصد ہیں۔

کرسمس امن ٹرین

اس کے علاوہ اس ہفتے، پاکستانی شہریوں نے پاکستان ریلوے کی طرف سے شروع کی جانے والی کرسمس امن ٹرین کو خوش آمدید کہا۔

پاکستانی ریلوے کے وزیر خواجہ سعد رفیق اور انسانی حقوق کے وزیر کامران مائیکل نے جمعرات (22 دسمبر) کو اسلام آباد میں اس ٹرین کا افتتاح کیا۔

رفیق نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "یہ ٹرین بین المذہبی ہم آہنگی کا پیغام لے کر جائے گی اور پاکستان کے مسلمانوں اور مسیحی برادری میں مظبوط تعلق کو اجاگر کرے گی"۔

مائیکل نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ یہ ٹرین امن، محبت، برابری اور ہم آہنگی کی علامت ہے اور یہ اس پیغام کو سارے ملک میں پھیلائے گی۔ انہوں نے کہا کہ "اقلیتیں محبت اور انسانیت پر یقین رکھتی ہیں اور وہ پاکستان کی ترقی میں اپنا اہم کردار ادا کرنا جاری رکھیں گی"۔

مائیکل نے اے ایف پی کو بتایا کہ "ہر کوئی مل کر کرسمس منائے گا"۔ انہوں نے مزید کہا کہ عام لوگوں کو خوش آمدید کہا جائے گا کہ وہ ٹرین کو دیکھیں اور راستے میں بہت سے مقامات پر اس کی نمائش کی جائے گی۔

پشاور میں بہت سے نوجوانوں نے ٹرین کو خوش آمدید کہا جب وہ اسلام آباد سے وہاں پہنچی۔ ٹرین کو اندر باہر سے کرسمس کے تقریباتی تصویروں، رنگ برنگی لائیٹوں اور سینٹا کلاز کو لے جانے والی بڑی برف گاڑی سے سجایا گیا ہے۔

یہ ٹرین اکتیس دسمبر کو کراچی پہنچنے سے پہلے، اپنا سفر مختلف شہروں تک جاری رکھے گی جیسے کہ جہلم، لاہور، ساہیوال، روہڑی، ٹنڈو آدم اور حیدر آباد۔

پشاور میں ٹرین کی تقریب کی کوریج کرنے والے ایک صحافی کاشف عزیز نے کہا کہ "ریلیاں اور ٹرین مارچ پاکستان بھر میں مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان بین المذہبی ہم آہنگی کو بہتر بنائے گا"۔ انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ ایسی مزید تقریبات کو باقاعدگی سے منعقد کیا جانا چاہیے۔

کراچی کی مسیحی برادری نے بدھ (21 دسمبر) کو اپنی امن ریلی منظم کی۔ شرکاء نے کراچی کے مختلف بازاروں میں مارچ کیا اور ان کے ساتھ رنگ برنگی اونٹ گاڑیاں بھی تھیں۔

ملک بھر میں، مسلمان نہ صرف ریلیوں میں شرکت کر رہے ہیں بلکہ وہ عیسائی دوستوں اور ہمسائیوں کے لیے بھی تقریبات منعقد کر رہے ہیں۔

پشاور کے مصافات میں رہنے والے ایک رہائشی محمد اسحاق نے کہا کہ "ہم اس واحد عیسائی خاندان کے لیے چھوٹی سی تقریب منعقد کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں جو ہمارے علاقے میں بہت سالوں سے رہائش پذیر ہے"۔ انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ وہ خاندان اس بات پر بہت زیادہ خوش ہے۔

سیکورٹی کا نفاذ

جہاں بہت سے عیسائیوں نے اپنے گھروں، چرچوں اور دوسری جگہوں پر کرسمس کی آمد کو منانے کے لیے چراغاں کیا ہے وہاں پولیس نے چرچوں اور رہائشی کالونیوں کی سیکورٹی میں اضافہ کر دیا ہے تاکہ محفوظ اور جشن سے بھرپور تعطیلات کو یقینی بنایا جا سکے۔

پشاور میں سینئر سپریٹنڈنٹ آف پولیس آپریشنز سجاد خان نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "ہم نے گشت میں اضافہ کر دیا ہے اور چرچوں کی حفاظت کو بڑھا دیا ہے تاکہ کرسمس کے دوران سیکورٹی کو یقینی بنایا جا سکے"۔

انہوں نے کہا کہ افسران پشاور اور خیبرپختونخواہ (کے پی) صوبے بھر میں انتہائی چوکس ہیں تاکہ کرسمس کے دوران مسیحی برادری کو محفوظ رکھا جا سکے۔

کرسمس کی تقریبات کو محفوظ بنانے کی کوشش سیکورٹی افواج کی طرف سے پشاور کے مضافات میں واقع کرسچین کالونی پر بڑے دہشت گردانہ حملے کو ستمبر کے پہلے ہفتے میں ناکام بنانے کے بعد شروع کی گئی ہے۔ چاروں مبینہ خودکش بمباروں کو اس علاقے کے رہائشیوں کو نشانہ بنانے سے پہلے ہی ہلاک کر دیا گیا۔

سیکورٹی افوج کے فوری ردعمل اور ان حملوں کے منصوبہ سازوں کی فوری گرفتاری نے عیسائی برادری کو سکون کا نیا احساس دیا ہے۔

پاکستان کے عیسائی کرسمس کے موقع پر کیے جانے والے سیکورٹی کے اقدامات اور اس کے ساتھ ہی مسلمانوں کی طرف سے ملنے والی حمایت پر اطمینان کا اظہار کر رہے ہیں۔

پشاور میں رہنے والے ایک عیسائی شاہد بھٹی نے کہا کہ "کرسمس سے پہلے چرچوں اور دوسری جگہوں پر سیکورٹی کے قابل اطمینان انتظامات کیے گئے ہیں"۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "کرسمس کی تیاریوں کا آغاز ہو چکا ہے اور بہت سی دکانیں کرسمس ٹری، سینٹا کلاز کاسٹیوم اور دیگر تحائف فروخت کر رہی ہیں"۔

بھٹی نے حکومت اور سیکورٹی افواج کی طرف سے امن کو بحال کرنے اور دہشت گردوں کے ان نیٹ ورکس کو تباہ کرنے کے لیے کی جانے والی کوششوں کی تعریف کی جنہوں نے گزشتہ سالوں میں مسلمانوں اور عیسائیوں کی عبادت گاہوں پر حملے کیے ہیں۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 2

تبصرہ 💬

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

انتخابات کے بعد پاکستان کو درپیش سب سے بڑا چیلنج کیا ہے؟

نتائج