|

دہشتگردی

پاکستانی بچے اسکولوں پر طالبان کے حملوں سے بے پرواہ

اس حقیقت کے باوجود کہ گزشتہ 7 برسوں میں لگ بھگ 500 اسکول طالبان کی جانب سے تباہ کیے جا چکے ہیں، بچے تعلیم حاصل کرنے کا عہد کیے ہوئے ہیں۔

اشفاق یوسفزئی


مہمند ایجنسی میں طالبان کی بمباری سے تباہ شدہ ایک اسکول کا ملبہ 26 نومبر کو دکھایا گیا ہے۔ [تصویر بشکریہ اشفاق یوسفزئی]

مہمند ایجنسی میں طالبان کی بمباری سے تباہ شدہ ایک اسکول کا ملبہ 26 نومبر کو دکھایا گیا ہے۔ [تصویر بشکریہ اشفاق یوسفزئی]

پشاور -- پاکستانی اسکولوں کے بچے عہد کر رہے ہیں کہ وہ کبھی بھی طالبان کو انہیں اسکول جانے سے ڈرانے نہیں دیں گے۔

وہ طالبان، جنہوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ جاہل اور ناخواندہ آبادی کو بھرتی کرنا زیادہ آسان ہے، کی جانب سے کئی برسوں سے اسکولوں پر بمباری اور دھمکیوں کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے جرأت مندانہ مؤقف اپنا رہے ہیں۔

وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقہ جات (فاٹا) میں نقصان زدہ اور تباہ شدہ اسکولوں کی کل تعداد میں کمی واقع ہو رہی ہے۔

طالبان اپنی بے مغز تباہی کے ساتھ مقامی بچوں کے جذبے کو توڑنے میں ناکام ہو گئے ہیں، کا اضافہ کرتے ہوئے، مہمند ایجنسی کے ایک افسرِ تعلیم، ستار خان نے کہا کہ سنہ 2009 سے 2016 تک، عسکریت پسندوں نے ایجنسی میں حکومت کے زیرِ انتظام 127 اسکولوں کو اڑا دیا تھا۔

وفاقی وزیر برائے ریاستی و سرحدی علاقہ جات، لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ نے دسمبر 2015 میں قومی اسمبلی میں بتایا کہ ایسا ہی نقصان دیگر قبائلی ایجنسیوں میں ہوا ہے - جہاں عسکریت پسندوں نے سنہ 2015 میں شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان اور خیبر ایجنسیوں میں 360 اسکولوں کو تباہ کیا۔

بچوں اور اساتذہ کی ہمت

اسکولوں کے غیر مغلوب بچے طالبان کی ڈرانے کی کوششوں کے سامنے سر خم کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔

مہمند ایجنسی میں پانچویں جماعت کے ایک طالب علم، مسعود شاہ نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "ہم کبھی بھی تعلیم ترک نہیں کریں گے۔ طالبان ہمیں اسکول جانے سے نہیں روک سکتے۔"

انہوں نے کہا کہ عسکریت پسندوں نے 26 نومبر کو تحصیل صافی میں مسعود کے لڑکوں کے اسکول کو بم سے اڑا دیا تھا، لیکن تمام 70 طلباء نقصان زدہ عمارت میں کلاسیں لیتے ہوئے عسکریت پسندی کے خلاف جنگ کرنے کے لیے پُرعزم ہیں۔

ان کے والد، غفران احمد نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ مسعود اور اس کے بھائی سبھی اسی عمارت میں اسکول جانا جاری رکھے ہوئے ہیں کیونکہ بچوں کو ناخواندہ رکھنے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے کہا، "اسکول کے بچے اور ان کے والدین ۔۔۔ فساد کو شکست دینے اور امن قائم کرنے کے لیے تعلیم کو واحد راستہ تصور کرتے ہیں۔"

اسکول میں زیرِ تعلیم دو بچوں کے والد، پرویز خان نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "ہم عمارات کو ہونے والے نقصان سے پریشان نہیں ہیں۔ اساتذہ موجود ہیں جو پڑھا سکتے ہیں۔ ہم اپنے بچوں کو اسکول بھیج کر خوش ہیں۔"

انہوں نے کہا، "یہ بہت حوصلہ افزاء بات ہے کہ لوگ عسکریت پسندوں کے خلاف کھڑے ہو رہے ہیں اور انہیں تعلیم کی اہمیت کا پتہ چل گیا ہے۔"

مہمند ایجنسی کے افسرِ تعلیم ستار خان نے کہا کہ اساتذہ بھی یکساں طور پر طالبان کی تعلیم کو متزلزل کرنے کی کوششوں کو مسترد کرتے ہیں۔ "تمام اساتذہ بے خوف ہیں اور اپنے شاگردوں کو پڑھانا چاہتے ہیں۔"

تعمیرِ نو میں مصروف

محنت کش عسکریت پسندوں کے تباہی کی میراث کو ختم کرنے میں مصروف ہیں۔

ستار نے کہا کہ مہمند میں ابھی تک، 127 اسکول جنہیں عسکریت پسندوں نے سنہ 2009 سے 2016 تک نشانہ بنایا تھا "حکومت نے ان میں سے 70 سے زائد کی تعمیرِ نو مکمل کر لی ہے۔ باقی ماندہ تعمیر کیے جا رہے ہیں۔"

تحصیل صافی کے اسکول جس پر طالبان نے 26 نومبر کو بمباری کی تھی، کا حوالہ دیتے ہوئے، انہوں نے مزید کہا، "یہ اسکول عسکریت پسندوں کی جانب سے سنہ 2009 میں تباہ کیا گیا تھا اور ان طلباء کو خدمات فراہم کرنے کے لیے سنہ 2013-2012 میں دوبارہ تعمیر کیا گیا تھا جو اس وقت بھی تعلیم حاصل کرتے رہے جب عمارت نہیں تھی۔"

انہوں نے کہا یہاں تک کہ طالبان کی جانب سے اسکول کو تازہ ترین نقصان کے بعد بھی، بچے کلاسوں میں جاتے رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا، "لوگ جانتے ہیں کہ عسکریت پسند جس چیز کی بھی مخالفت کرتے ہیں وہ ان کے لیے فائدہ مند ہے۔"

گزشتہ برس بلوچ نے قومی اسمبلی کو بتایا تھا کہ پورے فاٹا میں اسکولوں کی تعمیرِ نو ہو رہی ہے۔

پشاور کے مقامی ایک دفاعی تجزیہ کار اور تعلیم دان خادم حسین نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ ایسا کام معاشرے کے لیے ناگزیر ہے۔ "جب لوگ تعلیم یافتہ ہو جائیں گے، تو دہشت گردی ختم ہو جائے گی۔"

انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقہ جات کے باشندے طالبان کی جانب سے ان کے اسکولوں کو نشانہ بناتے رہنے کے بعد تعلیم کے آرزومند ہیں۔

دیہات متحد ہیں

خادم حسین نے کہا کہ فاٹا کے ہزاروں مکین جنہوں نے دہشت گردی کے بدترین برسوں کے دوران خیبرپختونخوا ہجرت کی تھی، اب اپنے بچوں کو تعلیم دلوانے کے لیے اپنے دیہاتوں میں واپس لوٹ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا یہاں تک کہ دیہاتی اسکولوں کو عسکریت پسندوں سے محفوظ رکھنے کے لیے رضاکارانہ خدمات بھی انجام دیتے ہیں۔

یونیورسٹی آف پشاور میں مطالعہ پاکستان کے ایک استاد، عطا اللہ خان نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ وسیع پیمانے پر اسکولوں کی یہ تباہی لوگوں کے ساتھ ایک ظالمانہ بدسلوکی کی نمائندہ ہے۔

انہوں نے کہا، "[طالبان کی] بچوں کے ساتھ دشمنی کی وجہ سے لوگ طالبان کو لعنت ملامت کرتے رہے ہیں۔ ان کا بچوں سے تعلیم چھیننے اور ویکسینیشن کو روکنے [اس طرح انہیں پولیو میں مبتلا کرنے] کا ایک مذموم ایجنڈا ہے۔"

کے پی وزیرِ تعلیم عاطف خان نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ مالاکنڈ ڈویژن، عسکریت پسندوں کی جانب سے زیادہ نشانہ بنائے جانے والے پاکستان کے ایک اور حصے میں، والدین کی جانب سے پُرتپاک ردِ عمل دیکھنے میں آ رہا ہے جب حکومت یہاں تعلیم کو بحال کرنے کے لیے مصروفِ عمل ہے۔

انہوں نے کہا، "ہم نے [مالاکنڈ میں] تمام 250 اسکولوں کو دوبارہ تعمیر کر دیا ہے جنہیں عسکریت پسندوں نے سنہ 2007 سے 2009 تک تباہ کیا تھا۔ ہم نے بچوں کو معیاری تعلیم حاصل کرنے کے قابل بنانے کے لیے اضافی وسائل مختص کیے ہیں۔"

انہوں نے مزید کہا کہ کے پی نے یہ یقینی بنانے کے لیے کئی مہمات شروع کی ہیں کہ پورے صوبے -- خصوصاً عسکریت پسندی سے تباہ شدہ علاقوں میں -- والدین اپنے بچوں کو اسکول بھیجیں۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 3

تبصرہ 💬

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

1 تبصرے 💬

💬

shaheenswati | 12-15-2016

یہ غلط ہے کہ پشاور کے سکولوں کے بچے طالبان سے خوفزدہ ہیں۔ پشتون بچے راکٹ اور ہتھیاروں سے کھیلتے ہیں۔ وہ ان سے خوفزدہ نہیں۔


انتخاب

کیا آپ نئی حکومت کی جانب سے ہندوستان کے ساتھ امن کی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں؟

نتائج