| سلامتی

پنجاب اور سندھ میں سیکیورٹی بہتر؛ دیگر صوبے پیچھے رہ گئے: رپورٹ

جاوید محمود


28 مارچ کو لاہور میں ایک پاکستانی پولیس کمانڈو 27 مارچ کو ہونے والے خود کش بم حملے کی جائے وقوعہ پر پہرہ دے رہا ہے۔ حکام پنجاب میں بطورِ کل سیکیورٹی صورتِ حال میں بہتری کی خبر دے رہے ہیں۔ [عارف علی/اے ایف پی]

28 مارچ کو لاہور میں ایک پاکستانی پولیس کمانڈو 27 مارچ کو ہونے والے خود کش بم حملے کی جائے وقوعہ پر پہرہ دے رہا ہے۔ حکام پنجاب میں بطورِ کل سیکیورٹی صورتِ حال میں بہتری کی خبر دے رہے ہیں۔ [عارف علی/اے ایف پی]

اسلام آباد — دسمبر کے اوائل میں جاری ہونے والی ایک تحقیق دکھاتی ہے کہ 2016 کی تیسری سہ ماہی میں صوبہ پنجاب میں دہشتگردی کا ایک بھی بڑا واقعہ رپورٹ نہیں کیا گیا، جبکہ صوبہ سندھ نے سیکیورٹی میں بڑی پیشرفت دکھائی ہے۔

تاہم، اسلام آباد کے مرکز برائے تحقیق و علومِ سلامتی (سی آر ایس ایس) نے جولائی-ستمبر کی سہ ماہی رپورٹ میں یہ بھی خبر دی گئی کہ اسی عرصہ کے دوران دہشتگردی بلوچستان، خیبرپختونخوا (کے پی) اور وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقہ جات (فاٹا) میں پروان چڑھی۔

صفر برداشت

پنجاب پولیس کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) آپریشنز عامر ذوالفقار نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا سب سے آباد صوبہ، پنجاب ”دہشتگردی اور تشدد کے خلاف صفر برداشت“ اپنا کر سیکیورٹی میں بہتری لانے میں کامیاب ہوا۔

انہوں نے کہا کہ اپنی اس سرگرم حکمتِ عملی کے جزُ کے طور پر پنجاب پولیس باقاعدگی سے خطرناک اشتہاری مجرموں کی نگرانی کرتی ہے۔

انہوں نے کہا، ”[جنوری تا نومبر] 2016 میں شرحِ جرائم گزشتہ برس کے اسی عرصہ کے مقابلے میں 60 فیصد کم ہوئی۔“ انہوں نے مزید کہا کہ اس عرصہ کے دوران پنجاب میں اغوا برائے تاوان میں 70 فیصد کمی واقع ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف اپنی جنگ کو بہتر بنانے کے لیے پنجاب پولیس نے اپنے شعبۂ انسدادِ دہشتگردی (سی ٹی ڈی) کی تجدید کی اور انگلیوں کے نشانوں اور تصاویر پر نظر رکھنے کے لیے انفارمیشن ٹیکنالوجی کا نفاذ کیا۔

سی آر ایس ایس نے خبر دی کہ پنجاب میں ان کاوشوں کے مرہونِ منّت یہ واحد صوبہ رہا جس میں تیسری سہ ماہی میں دہشتگردی کا کوئی بڑا واقعہ ریکارڈ نہیں کیا گیا۔

اس سہ ماہی کے دوران پنجاب میں سیکیورٹی فورسز نے متعدد دہشتگردوں کو جہنم واصل کیا اور گرفتاریاں بھی کیں۔ مارے جانے والے عسکریت پسندوں کا تعلق تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور لشکرِ جھنگوی (ایل ای جے) سے تھا۔ اس وقت پنجاب میں زیرِ حراست ملزمان پر ”دولتِ اسلامیۂ عراق و شام“ (آئی ایس آئی ایل) سمیت متعدد گروہوں سے وابستہ ہونے کا الزام ہے۔

سی آر ایس ایس کے مطابق، صوبہ سندھ میں اسی سہ ماہی کے دوران دہشتگردی سے متعلقہ 111 اموات ریکارڈ کی گئیں جو گزشتہ عرصہ میں 138 تھیں۔

2016 کے اوائل سے آغاز کرتے ہوئے سندھ اور بطورِ خاص کراچی میں حکام نے دہشتگردی اور تشدد کے اشاریوں کو نیچے لانے کے لیے متعدد سیکیورٹی اقدامات کیے ہیں۔

مثال کے طور پر پولیس اہلکاروں نے ستمبر میں شکار پور میں ایک عیدگاہ (نمازِ عید کی ادائیگی کا مقام) پر اور ایک امام بارگاہ (شعیوں کی جائے عبادت) پر خودکش حملوں کی کوششیں ناکام بنائیں، جس سے سندھ میں بطورِ کل دہشتگردی کی شرح میں کمی لانے میں مدد ملی۔

بلوچستان کی جدوجہد

درایں اثناء، بلوچستان میں سیکیورٹی صورتِ حال بد ترین ہو گئی۔

دہشتگردی کے نتیجہ میں ہونے والی شہری اموات جو دوسری سہ ماہی 59 تھیں، تیسری سہ ماہی میں بڑھ کر 133 تک پہنچ گئیں؛ کسی اور صوبے میں تیسری سہ ماہی میں اتنی اموات نہیں ہوئیں۔

سی آر ایس ایس نے کہا کہ صوبائی حکام متعدد مشتبہ عسکریت پسندوں اور مشتبہ تسہیل کاروں کو گرفتار کرتے ہوئے صورتِ حال پر قابو پانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

صوبائی گورنر کے ترجمان انوارالحق کاکڑ نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، ”حکومتِ بلوچستان ۔۔۔ [تمام] عسکریت پسندوں کے لیے صفر برداشت جاری رکھنے میں پرعزم ہے۔“

انہوں نے کہا، ”ہم نے دہشتگردوں کے خلاف آپریشن میں اضافہ کر دیا ہے۔ ہم ان کی قدم جمانے کی کوششوں کو ناکام بنا دیں گے۔“

کاکڑ نے باقاعدہ افواج کے سامنے کھڑا ہونے کی عسکریت پسندوں کی ناقابلیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ عسکریت پسند مایوسی میں ”آسان اہداف“ کو نشانہ بنا رہے ہیں، اموات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

ایسے حملوں میں 8 اگست کا خودکش حملہ شامل ہے جس میں کوئٹہ کے ایک ہسپتال میں درجنوں وکلاء جانبحق ہوئے.

انہوں نے کہا کہ 2015 اور 2016 میں بلوچستان میں اپنے سینکڑوں ساتھیوں کے ہتھیار ڈال دینے کے بعد عسکریت پسند مایوسی میں شہریوں کا قتلِ عام کر رہے ہیں۔

سیکیورٹی تجزیہ کار اور کوئٹہ پریس کلب کے صدر شاہزادہ ذوالفقار نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، ”افغانستان سے آنے والے عسکریت پسند بلوچستان کے علاقہ وادھ میں مقیم ہیں، جہاں سے وہ بلوچستان اور سندھ میں دہشتگرد حملے کرتے ہیں۔“

فاٹا، کے پی میں اموات میں اضافہ

درایں اثناء فاٹا اور کے پی تیسری سہ ماہی میں اپنے وہاں دہشتگردی میں ریکارڈ کیے گئے اضافہ سے نمٹ رہے ہیں۔

سی آر ایس ایس نے کہا کہ جولائی-ستمبر میں فاٹا میں دہشتگردی سے متعلقہ 120 اموات ریکارڈ کی گئیں جو دوسری سہ ماہی میں مقابلۃً 62 تھیں۔ تاہم سیکیورٹی فورسز عسکریت پسندوں سے جنگ جاری رکھے ہوئے ہیں اور فضائی افواج نے اگست اور ستمبر میں خیبر ایجنسی میں متعدد بار عسکریت پسندوں کی کمین گاہوں کو نشانہ بنایا ہے۔

درایں اثناء کے پی میں تیسری سہ ماہی کے دوران دہشتگردی سے متعلقہ 103 اموات ریکارڈ کی گئیں۔ سی آر ایس ایس نے کہا کہ اس صوبہ میں ملک کے کسی بھی دیگر حصہ کے مقابلہ میں زیادہ خودکش حملے اور بم حملے ہوئے۔

پشاور سے تعلق رکھنے والے سیکیورٹی تجزیہ کار برگیڈیئر (ریٹائرڈ) محمود شاہ نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئےجون 2014 سے شمالی وزیرستان میں جاری جارحانہ عسکری کاروائی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تاہم فاٹا اور کے پی میں ”سیکیورٹی فورسز آپریشن ضربِ عضب کی کامیابی کو مجتمع کر رہی ہیں۔“

انہوں نے کہا کہ مایوس عسکریت پسند جو ضربِ عضب کی وجہ سے اپنی کاروائیوں کو شدید طور پر محدود ہوتا محسوس کر رہے ہیں، بپھر کر فاٹا اور کے پی میں اموات کا باعث بنتے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ صورتِ حال مکمل طور پر سیکیورٹی فورسز کے قابو میں ہے۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

7
0
نہیں
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی Captcha