|

سلامتی

عراقی افواج موصل میں داعش کی مایوس کن تدابیر کا سامنا کرنے کے لیے تیار

میدانِ جنگ میں نقصانات بڑھنے کے ساتھ 'دولتِ اسلامیۂ عراق و شام' دیگر تدابیر کے ساتھ شہریوں کو انسانی ڈھالوں کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔

خالد التائے


ایک عراقی لڑکی موصل کے جنوب میں 'دولتِ اسلامیۂ عراق و شام' سے اس کے اہلِ خانہ کو بچائے جانے پر سیکیورٹی فورسز کا شکریہ ادا کر رہی ہے۔ [تصویر بشکریہ عراقی وزارتِ دفاع]

ایک عراقی لڑکی موصل کے جنوب میں 'دولتِ اسلامیۂ عراق و شام' سے اس کے اہلِ خانہ کو بچائے جانے پر سیکیورٹی فورسز کا شکریہ ادا کر رہی ہے۔ [تصویر بشکریہ عراقی وزارتِ دفاع]

عراقی افواج کا کہنا ہے کہ وہ ان متعدد مایوس کن اقدامات اور غیر متوقع تدابیر کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں جنہیں موصل کی آزادی کے لیے جارحانہ کاروائی کے تیز ہونے کے ساتھ ”دولتِ اسلامیۂ عراق و شام“ (داعش) استعمال میں لائے گی۔

داعش کی جانب سے استعمال کی جانے والی ایک تدبیر شہریوں کو انسانی ڈھالوں کے طور پر استعمال کرنا ہے۔

فوج کی 15ویں رجمنٹ کے ایک سپاہی سلام علی نے کہا کہ داعش عناصر میدانِ جنگ میں عراقی سپاہیوں کا مقابلہ کرنے سے خوفزدہ ہیں، انہوں نے حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ اکثر غیر مسلح شہریوں کے مابین چھپ جاتے ہیں۔

انہوں نے دیارونا سے بات کرتے ہوئے کہا، ”لیکن ہم ان کے لیے تیار ہیں اور انہیں عوام کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دیں گے۔“

گولیوں کے تبادلہ کے دوران پکڑی جانے والی دو خواتین اور پانچ بچوں کو بچانے کے لیے کی گئی عسکری کاروائی کے دوران عراقی سپاہیوں نے آئی ایس آئی ایل کے نشانہ بازوں کی گولیوں کا خظرہ مول لے کر الصلاحیہ کے گاؤں پر دھاوا بولا۔

انہوں نے کہا، ”خطرہ کوئی معنی نہیں رکھتا۔ اہم یہ ہے کہ ہم معصوم زندگیاں بچانے میں کامیاب ہو گئے۔“

عراق میں آئی ایس آئی ایل کے مرکزی گڑھ، موصل کی جانب عراقی فوج کی پیشرفت کو سست کرنے کے لیے آئی ایس آئی ایل دیگر مایوس کن اقدامات کر رہی ہے۔

جائنٹ کمانڈر آپریشنز کمانڈ کے ترجمان برگیڈیئر جنرل یحیٰ رسول نے دیارونا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ”فوج کو دھوکہ دینے اور موصل میں اپنے جنگجوؤں پر دباؤ کم کرنے کے لیے“ آئی ایس آئی ایل کے درجنوں جنگجوؤں اور خودکش حملہ آوروں نے حال ہی میں کرکُک اور الرتبہ پرحملہ کیا۔

انہوں نے کہا، ”لیکن سیکیورٹی فورسز کی شجاعت اور چوکسی کی وجہ سے یہ دونوں حملے بری طرح سے ناکام ہو گئے۔“

انہوں نے کہا، ”جب ہم نے موصل کی لڑائی کے لیے منصوبہ بندی کی، ہم نے اس امر کو ملحوظِ خاطر رکھا کہ داعش کے وحشی خود کو بچانے کے لیے ہر ممکن طریقہ استعمال کریں گے۔“

انہوں نے مزید کہا کہ داعش عناصر نے میڈیا پر فتح حاصل کرنے کی ایک کوشش میں کرکُک اور الرتبہ میں نئے محاذ کھولنے کی کوشش کی تاکہ ان کے حوصلے بلند ہو سکیں، لیکن بالآخر وہ ہار گئے اور ان کی کاوشیں بلاسود رہیں۔

اکتوبر کے وسط میں رمَدی میں بھی عراقی افواج نے قبائلی کمک افواج کے ساتھ معاونت سے داعش کا ایک حملہ ناکام بنا دیا۔ .

بزدلانہ کارروائیاں

رسول نے بتایا، "ان کا طریقہ کار میدان جنگ میں مقامیوں کے درمیان چھپنا اور ان کو ڈھال بنانا ہے، لیکن گلیوں میں جنگ کے لئے تربیت یافتہ ہمارے فوجیوں کی بہادری، نے ان کے منصوبے کو ناکام کردیا۔"

گروپ آتشزنی پر بھی اتر آیا، رسول نے، حال ہی میں المشرق سلفر فیکٹری اور اس سے پہلے القایارا میں تیل کے کنووں کی آتشزنی، پر توجہ دلاتے ہوئے بتایا۔

انہوں نے بتایا، "ایک غیر معمولی کوشش اور متعلقہ حکام کی مدد سے ہماری فورسز آگ پر قابو پانے اور اسے بجھانے میں کامیاب ہوئیں۔"

ہم رونما ہونے والے تبدیلیوں کا ہر لمحہ جائزہ لے رہے ہیں، انہوں نے مزید بتایا۔ آئی ایس آئی ایل اپنا قبضہ کھو رہی ہے اور جنگ کے آغاز کے بعد سے اس کے ارکان ٹوٹ رہے ہیں۔ اب وہ صرف سڑک کنارے بم نصب کر رہے ہیں اور اِدھر اُدھر حملے کر رہے ہیں۔

تاہم، رسول نے بتایا، "ہم دشمن سے ہر بات کی توقع کرسکتے ہیں اور ہم جنگ کی کسی بھی نوعیت سے نبٹنے کے لئے تیار ہیں۔"

موصل کی جنگ فیصلہ کن اور تاریخی ہے، انسداد دہشت گردی سروس کے ترجمان صباح النعمان نے دیارونا کو بتاتے ہوئے واضح کیا کہ "ہماری تیاری اس جنگ کے مسلط کئے گئے چیلنجز اور مشکلات کی مناسبت سے تھی۔"

انہوں نے بتایا، "دشمن کی تمام کوششیں ناکام ہوئیں کیونکہ ہم غیر متوقع کی توقع رکھنے کے ساتھ مکمل تیار تھے۔"

انہوں نے بتایا، "ہم جنگ جیت رہے ہیں اور ہر چیز ہمارے منصوبے کے مطابق ہورہی ہے۔ ہماری فورسز دہشت گردوں کو ان کے بزدلانہ اقدامات کے لئے وقت دیے بغیر اپنے نشانے کی جانب نقل وحرکت اور پیشقدمی کر رہی ہیں۔"

کی کے تعاقب میں

النعمان نے بتایا کہ موصل میں انکی فورسز کے پاس کی کی کمین گاہوں کے بارے میں اطلاعات ہیں اور ان کے جنگجو کہاں اکٹھے ہیں، ان کی تعداد اور سازوسامان سے آگاہ ہیں۔

انہوں نے بتایا، "ہمارے انٹیلی جنس ذرائع نے جنگ کے آغاز سے چھ ماہ قبل ہمیں آئی ایس ایل کے پاس موجود پتّوں اورصورتحال کی مکمل تصویر فراہم کردی تھی۔"

انہوں نے مزید بتایا، "آئی ایس آئی کے لڑاکوں کی صلاحیت اور حوصلہ ہمیشہ کے مقابلے میں بہت کم ہے اور ہم آخری معرکہ کی طرف پیشقدمی کررہے ہیں۔"

دہشت گرد گروہوں سے متعلق ماہر ہاشم الہاشمی نے دیارونا کو بتایا، فی الوقت آئی ایس آئی ایل کے پاس موصل پر زیادہ عرصے قبضہ برقرار رکھنے کے لئے کافی طاقت موجود نہیں ہے۔

انہوں نے مزید بتایا، اس کا امکان نہیں ہے کہ جنگ کے میدان میں اپنی شکست پر، گروپ موصل میں بڑے پیمانے پر ہر چیز تباہ کرنے کی پالیسی پر گامزن ہوگا۔

"ہوسکتا ہے کہ جنگ کے اختتام پر فتح کی ناکامی کے لئے گروپ صرف خودکش حملے کرنے کے قابل رہ جائے۔ اس کے ہم عادی ہوچکے ہیں۔" انہوں نے بتایا، "خودکش بمبار بدترین ہتھیار ہیں اور ہمیں مکمل چوکس رہنا ہو گا۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 1

تبصرہ 💬

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

کیا آپ کو روس کی پاکستان میں بڑھتی ہوئی دلچسپی پر تشویش ہے؟

نتائج