http://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2016/10/26/feature-01
| دہشتگردی

پاکستانی ماہرینِ نفسیات نے ذہنی بیماریوں میں اضافے کا ذمہ دار طالبان کو ٹھرایا ہے

اشفاق یوسف زئی

دس اکتوبر کو دماغی صحت کے عالمی دن کے موقع پر، دماغی صحت کے پیشہ ور اور سول سوسائٹی کے سرگرم کارکن پشاور میں مارچ کر رہے ہیں۔ ]اشفاق یوسف زئی[

پشاور - پاکستان کے ماہرینِ نفسیات، دس سال سے زیادہ کے عرصے کے دوران وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) اور اس کے ساتھ واقعہ خیبرپختونخواہ (کے پی) کے علاقوں میں دماغی بیماریوں میں اضافے کا ذمہ دار طالبان کو قرار دے رہے ہیں۔

پاکستان سائکیٹرک سوسائٹی کے صدر پروفیسر سید محمد سلطان نے دس اکتوبر کو دماغی صحت کے عالمی دن کے موقعہ پر پشاور میں ہونے والی ایک کانفرنس میں کہا کہ "2005 سے جب عسکریت پسندوں نے مکمل طور پر تشدد کی کاروائیوں کو شروع کیا تھا، فاٹا اور کے پی کے شہریوں میں نفسیاتی بیماریوں میں بہت زیادہ اضافہ دیکھا گیا ہے"۔

انہوں نے اس سے پہلے یا بعد میں ہونے والے واقعات کا حوالہ نہیں دیا۔

انہوں نے اپنی تقریر کے دوران کہا کہ خیبر ٹیچنگ ہسپتال (کے ٹی ایچ) کے نفسیاتی وارڈ میں داخل ہونے والے مریضوں میں سے تقریبا ساٹھ فیصد فاٹا یا مالاکنڈ ڈویژنوں سے آتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کے ٹی ایچ کے نفسیاتی وارڈ میں داخل مریضوں میں سے تقریبا چالیس فیصد خواتین ہیں جن کے شوہر، بھائی، بچے یا دوسرے رشتہ دار طالبان کے تشدد کا شکار بن چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نفسیاتی دباؤ، بے چینی اور پوسٹ ٹرامیٹک سٹریس ڈس آرڈر (پی ٹی ایس ڈی) کے آسمان کو چھوتے ہوئے واقعات سے عوام کو بچانے کا واحد حل طویل المعیاد امن قائم کرنا ہے۔

کے پی کے وزیرِ صحت شہرام ترکئی نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ کے پی کی حکومت نے حال ہی میں بیس ماہرینِ نفسیات کو ڈسٹرکٹ کی سطح پر تعینات کیا ہے تاکہ متاثرہ شہریوں کو فوری طور پر مدد فراہم کی جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ "ہم طبی کیمپ (عوامی تقریبات) منعقد کرتے ہیں جن میں ماہرین مفت خدمات اور ادویات فراہم کرتے ہیں۔ ہم نے بجٹ میں مختص کی جانے والی رقم میں اضافہ کیا ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ نفسیاتی بیماریوں کے شکار تمام افراد کو دوائی مل سکے"۔

انہوں نے کہا کہ مالاکنڈ ڈویژن میں، کے پی کی حکومت نے ایک پروگرام شروع کیا ہے جس کے تحت دماغی طور پر بیمار لوگوں کو مشاورت اور ادویات فراہم کی جائیں گی۔

المناک یادیں

محمد مصطفی جو کہ شمالی وزیرستان ایجنسی کے ایک شہری ہیں اور جو پشاور میں واقع سرحد نفسیاتی ہسپتال میں زیرِعلاج ہیں، نے طالبان کے عسکریت پسندوں کے ظلم و جبر پر ان کی مذمت کی۔

بائیس سالہ مصطفی نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "2006 میں، طالبان نے بغیر کسی وجہ کے میرے دو بڑے بھائیوں کو قتل کر دیا۔ انہوں نے میرے والد سے کہا کہ وہ چلے جائیں ورنہ ان کے ساتھ بھی ایسا ہی سلوک ہو گا"۔

انہوں نے کہا کہ "اس وقت سے، ہمارے خاندان کو معاشی مسائل کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ہمارا جنرل اسٹور ہوتا تھا اور ہم اچھا کماتے تھے۔ مگر اب ہم چارسدہ میں کرایے کے کچے گھر میں رہتے ہیں"۔

انیس سالہ شفیق خان جو طالبان کی طرف سے اپنے والد کو قتل کیے جانے کے بعد، کئی سال پہلے مہمند ایجسنی سے بھاگ کر چارسدہ ڈسٹرکٹ آئے ہیں، نے کہا کہ اس کے والد سات افراد پر مبنی خاندان کی کفالت کے لیے ریڑھی پر سبزیاں بیچا کرتے تھے۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "میں ہر مہینے پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال آتا ہوں۔ میں نفسیاتی دباؤ کے لیے دوائی لیتا ہوں۔ میں اس دن کے بارے میں خواب دیکھتا ہوں جب طالبان نے میرے سامنے میرے والد کو ہلاک کر دیا تھا"۔

اس نے مزید کہا کہ وہ کام نہیں کر سکتا کیونکہ اس کے علاج کے باعث وہ زیادہ تر وقت سوتا رہتا ہے۔

بیماریوں کا ایک مجموعہ

پشاور کے ایک ماہر نفسیات، افتخار حسین نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ تشدد کے واقعات کے متاثرین میں ابسیسو-کمپلسیو ڈس آرڈر، فوبیا اور منشیات کے استعمال کی ایک بڑی وجہ دہشت گردی ہے۔

انہوں نے کہا کہ "ہم نے گزشتہ تین سالوں کے دوران لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں 5,500 افراد کا علاج کیا ہے جن میں سے زیادہ تر کا تعلق تشدد کے شکار علاقوں سے ہے۔ ان بیماریوں کو فوری تشخیص اور علاج سے روکا جا سکتا ہے"۔

انہوں نے کہا کہ جن مریضوں نے دہشت گردی کو دیکہا ہے ان میں ایک جیسی علامات ہوتی ہیں۔ انہیں بار بار اپنے قریبی رشتہ داروں کی ہلاکت کی جھلکیاں نظر آتی رہتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 180 ملین کی آبادی میں سے تقریبا 7 ملین پاکستانی شہری پریشانی اور ذہنی دباؤ کا شکار ہیں اور اس کی زیادہ تر وجہ تشدد سے متعلق ہوتی ہے۔

2010 میں طالبان نے جان انوارہ کے تیئس سالہ بیٹے کو اس کی آنکھوں کے سامنے جنوبی وزیرستان میں ہلاک کر دیا. یہ بات بیوہ نے پاکستان فارورڈ کو بتائی۔

انہوں نے کہا کہ اسے اے کے 47 سے گولی ماری گئی اور وہ میری گود میں وفات پا گیا۔ "میں اس وقت سے اللہ تعالی سے دعا کر رہی ہوں کہ وہ طالبان کو تباہ کر دے"۔

انہوں نے کہا کہ ان کی دعائیں قبول ہوئی ہیں کیونکہ "عسکریت پسندوی کے ذمہ دار غائب ہو گئے ہیں"۔

اس کے ڈاکٹر، افتحار نے کہا کہ "اسے دوائیوں اور نفسیاتی امداد کی ضرورت ہے "۔

انہوں نے مزید کہا کہ بہتر نتائج کے لیے جلد از جلد علاج شروع کر دینا بہت ضروری ہے۔

کے پی کے ہیلتھ سروسز کے ڈائریکٹر، پرویز کمال نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ کے پی کی حکومت نے پاکستان سائکیٹرک سوسائٹی کے ساتھ مل کر حال ہی میں ایک پروگرام شروع کیا ہے تاکہ ذہنی بیماریوں کے شکار افراد کا علاج کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ 2007 سے 2009 تک طالبان کی طرف سے دہشت کا سامنا کرنے کے بعد، مالاکنڈ کی تقریبا ایک تہائی آبادی پی ٹی ایس ڈی کا شکار ہے۔

انہوں نے کہا کہ "ہم نے شمالی اور جنوبی وزیرستان کے بے گھر ہو جانے والے افراد میں، جو کہ کے پی کی پانچ ڈسٹرکٹس میں رہائش پذیر ہیں، میں ذہنی بیماریوں میں اضافہ ریکارڈ کیا ہے"۔

انہوں نے کہا کہ "بے گھر ہونے والے افراد میں پریشانی اور ذہنی دباؤ 34 فیصد میں موجود ہے۔ بے گھر ہونے والے پچاس فیصد افراد ذہنی دباؤ کا شکار ہیں"۔

نئی ایجادات پر غور

دریں اثنا، کے پی کی حکومت صوبے میں دماغی صحت کو بنیادی علاج کا حصہ بنانے پر غور کر رہی ہے۔

کمال نے کہا کہ "ہم نفسیاتی بیماریوں سے جڑی بدنامی کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ بہت سے لوگ ماہرینِ نفسیات کے پاس نہیں جاتے ہیں"۔

پشاور سے تعلق رکھنے والے سیکورٹی کے تجزیہ کار خادم حسین نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ اگر آپ اپنے رشتہ داروں، کاروبار یا اسکول کو کھو دیں تو مایوسی کا شکار ہونا قدرتی بات ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ "ہم فاٹا میں عسکریت پسندوں کے خلاف اقدامات کرنے پر پاکستانی فوج کے مشکور ہیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ لوگوں کی زندگیاں جلد ہی بہتر ہو جائیں گی"۔

انہوں نے کہا کہ عوام ابھی تک فاٹا اور مالاکنڈ میں طالبان کی سفاکی کے اثرات سے نپٹ رہے ہیں۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
0
نہیں
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی
Captcha