| دہشتگردی

سندھ پولیس کی جانب سے خودکش بمباروں کو پہچاننے، روکنے کے لیے رہنماء ہدایات کا اجراء

از آمنہ ناصر جمال


سندھ رینجرز ستمبر میں مشتبہ عسکریت پسندوں کے قبضے سے برآمد ہونے والی ہتھیاروں اور اسلحے کی ایک بڑی کھیپ کی نمائش کرتے ہوئے۔ [آمنہ ناصر جمال]

سندھ رینجرز ستمبر میں مشتبہ عسکریت پسندوں کے قبضے سے برآمد ہونے والی ہتھیاروں اور اسلحے کی ایک بڑی کھیپ کی نمائش کرتے ہوئے۔ [آمنہ ناصر جمال]

کراچی -- سندھ پولیس نے سیکیورٹی فورسز کے عملدرآمد کرنے کے لیے تفصیلی رہنماء ہدایات جاری کی ہیں تاکہ ممکنہ خودکش بمباروں کو روکا جائے اور انہیں ان کے اہداف تک نہ پہنچنے دیا جائے۔

رہنماء ہدایات 18 ستمبر کو تمام پولیس تھانوں اور ضلعی افسران میں تقسیم کی گئی تھیں اور پولیس شہریوں سے ملتمس ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون کریں۔

سندھ پولیس کے سرکلر کے مطابق، خودکش بمبار مرد یا خاتون اور عام طور پر 12 اور 24 سال کے درمیان عمر کے ہو سکتے ہیں۔ مرد عام طور پر داڑھی مونچھوں کے بغیر، تراشے ہوئے بالوں اور اپنے ماحول کے مطابق ملبوس ہوتے ہیں۔

رہنماء ہدایات بتاتی ہیں کہ خودکش بمبار کی وضع عام طور پر فربہ ہوتی ہے، کیونکہ اس نے نئے لباس کے نیچے بارودی جیکٹ پہن رکھی ہوتی ہے۔ ان کے کندھے بارود کے وزن کی وجہ سے تھوڑے سے آگے کی طرف جھکے ہوتے ہیں۔

رہنماء ہدایات میں بتایا گیا ہے کہ انہوں نے اکثر تسبیح پکڑی ہوتی ہے اور جب اپنے ہدف کی طرف جا رہے ہوتے ہیں تو غالباً کسی کی طرف بھی متوجہ نہیں ہوتے۔

ہدایات مزید تفصیل بیان کرتے ہوئے آگے بڑھتی ہیں کہ پولیس افسران کو چاہیئے کہ خودکش بمبار کو گولی نہ ماریں، بلکہ اس کی بجائے انہیں سُن کرنے والی برقی گن سے مفلوج کریں۔ پولیس کو یہ بھی کوشش کرنی چاہیئے کہ مشتبہ فرد کو پیچھے سے پکڑیں اور قلاب میں لائیں، یہ یقینی بناتے ہوئے کہ اس کی کلائیاں کھلی رہیں۔

پولیس کے ساتھ تعاون کرنا عوام پر لازم ہے

ایڈیشنل انسپکٹر جنرل آف پولیس کراچی مشتاق مہر نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "خودکش بمباری ہمارے دور میں سیاسی فساد کا ایک فیصلہ کن فعل بن چکا ہے۔"

عوام کو اس بارے میں پولیس کے ساتھ تعاون کرنے کی ترغیب دیتے ہوئے، انہوں نے کہا، "ان حالات میں ہمیں دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔ ہم اس حکمتِ عملی پر کامیابی کے ساتھ صرف عوام کی مدد سے ہی عمل درآمد کر سکتے ہیں۔"

انہوں نے کہا کہ اگر عوام کو اپنے اردگرد کسی بھی مشکوک سرگرمیوں یا عناصر کا احساس ہوتا ہے تو انہیں چاہیئے کہ وہ پولیس کو معلومات دیں۔

مہر نے کہا کہ ہدف یہ ہے کہ دہشت گردوں کو کارروائی کرنے سے پہلے ہی گرفتار کر لیا جائے۔ پولیس اور شہریوں کو یکساں طور پر چوکس اور ہوشیار ہونا لازمی ہے تاکہ خودکش حملہ آوروں کو ان کے اہداف تک پہنچنے سے پہلے روکا جائے۔

پولیس سنگین جرائم سے بچاؤ کے لیے جدید ترین اور پیچیدہ ترین ٹیکنالوجی کا پورا فائدہ اٹھا رہی ہے، بشمول نگرانی، موبائل فرانزک لیب، مجرموں کے سکیچ تیار کرنے کا سافٹ ویئر، مجرموں کی فہرست سازی کا سافٹ ویئر اور انٹیلیجنس نیٹ ورکس۔

انہوں نے کہا، "محکمۂ پولیس کو جدید تربیت سے لیس کرنے کے ذریعے دہشت گردی کا مقابلہ مؤثر طریقے سے کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے گئے ہیں۔"

انہوں نے کہا، "تاہم، دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف ہر شہری کے مدد کے ساتھ ہی جیتی جا سکتی ہے۔ پولیس کے ساتھ ان کے تعاون کو وسیع کرنے کی ضرورت ہے، یہ یقینی بنانے کے لیے کہ ریاست مخالف عناصر کو معاشرے سے نکال پھینکا جائے۔"

معاشرے میں تشدد کا مقابلہ کرنا

یونیورسٹی آف پنجاب میں شعبۂ عمرانیات کے سابق ڈین، محمد حفیظ نے کہا، "ریاست کو لاحق انتہاپسندوں کے خطرات کا ایک ناگزیر ضمنی اثر روزمرہ کے معاملات [کو حل کرنے] میں شہریوں کا تشدد پر بڑھتا ہوا انحصار ہے۔"

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "گروہوں اور افراد کے درمیان اختلافات کا بات چیت کے ذریعے تصفیہ، حتیٰ کہ چھوٹے چھوٹے معاملات میں بھی، بہت سکڑ گیا ہے، اور لوگوں کی بڑھتی ہوئی تعداد میں تشدد پہلا انتخاب بن چکا ہے۔"

انہوں نے کہا طالبان، فرقہ واریت اور نسلی عداوتیں یہ تمام عوامل ہیں جو معاشرے میں تشدد اور انتہاپسندی کے پشت پناہ ہیں۔

انہوں نے کہا، "انتہاپسندی [کا مقابلہ کرنے کے لیے] ایک جامع طریقۂ کار وضع کرنے کے لیے، [ان] تحریک دہ عوامل کو پہچاننا اہمیت کا حامل ہے۔"

انہوں نے کہا، "ہمیں لازماً تسلیم کرنا چاہیئے کہ دہشت گردی ایک مشترکہ عفریت ہے اور اس لیے ہمارے وطن سے اسے نیست و نابود کرنے کے لیے قوتوں کو مجتمع کیا جائے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ نوجوانوں کو عسکری گروہوں میں شامل ہونے سے روکنے اور ایسے عسکریت پسندوں کو جو دلیل کو ماننے ہیں واپس لانے کے لیے ایک وسیع البنیاد پروگرام ہو۔"

حفیظ نے تجویز پیش کی کہ اسکول کی درسی کتب میں بنیادی تبدیلیاں کرنے کے ساتھ ساتھ، پوری دنیا میں ہونے والی تحقیق کی بنیاد پر اسلام کی ترقی پسند اقدار کو فروغ دینے کی ضرورت ہے تاکہ انتہاپسندی کی نظریاتی املاک کو چیلنج کیا جا سکے۔"

انتہاپسندی کی بنیادی وجوہات کو ختم کرنا

کراچی کے مقامی دفاعی تجزیہ کار، پاکستانی فوج کے بریگیڈیئر (ر) رشید اے ملک کے مطابق کئی وجوہات کی بناء پر گزشتہ 10 برسوں میں خودکش بمباریاں دہشت گرد حملوں کا ایک مرکزی ہتھیار بن چکی ہیں۔

انہوں نے وضاحت کی، "ایسے حملے کی منصوبہ بندی کرنا اور اسے انجام دینا نسبتاً آسان ہے۔ اس میں ہلاکتیں زیادہ ہوتی ہیں اور تفصیلی منصوبہ بندی درکار نہیں ہوتی۔"

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ خودکش بمبار کو اس تشدد سے تحریک دی جا سکتی ہے جو انہوں نے یا ان کے خاندانوں نے سہا ہوتا ہے یا انتہائی غربت سے، جبکہ دیگر کو انتہاپسندوں کی جانب سے برین واش کر کے تحریک دی جا سکتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ غربت، محرومی، ناخواندگی اور بیروزگاری انتہاپسندی کو جنم دیتے ہیں۔ خواتین بھی ان عوامل کا اثر قبول کرتی ہیں۔

ملک نے کہا، "لہٰذا، غربت کا خاتمہ، بیروزگاری میں کمی، تعلیم کا فروغ، کھیل اور دیگر تفریحی سرگرمیاں، اور عوام کے مجموعی سماجی و معاشی کو بہتر بنانا یقیناً انتہاپسندی اور دہشت گردی کو کم کر سکتے ہیں۔"

انہوں نے پاکستان میں تشدد کو کم کرنے کا کریڈٹ نیشنل ایکشن پلان (این اے پی) اور انسدادِ دہشت گردی کے فوجی آپریشن ضربِ عضب کو دیا۔

انہوں نے کہا، "خودکش بمباروں کو بڑھتا ہوا مسلک ایک حقیقت ہے اور اس پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کی قبائلی پٹی اور اس کے سب سے بڑے شہر [کراچی] میں فوجی مہم کو دہشت گرد حملوں اور دیگر جرائم میں کمی لانے کا کریڈٹ دیا جا چکا ہے۔"

انہوں نے کہا، "این اے پی سے پہلے، دہشت گردوں کو استغاثہ، قانون اور عدالتی نظام میں مخصوص خامیوں کی وجہ سے ان کی واجب سزائیں نہیں دی گئی تھیں۔ ماضی میں، دہشت گردوں کو مؤثر قانونی نظام نہ ہونے کی وجہ سے ان کی دہشت گرد سرگرمیوں کو فروغ دینے کے مواقع ملے، اب مزید وہ صورتحال نہیں ہے۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

14
0
نہیں
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی Captcha