|

دہشتگردی

پاکستان دہشت گردی میں سرمایہ کاری کے گرد شکنجہ کس رہا ہے

حکام کا کہنا ہے کہ منجمد کردہ 3،000 سے زائد بینک کھاتے کالعدم تنظیموں اور ان کے سہولت کاروں کے ہیں۔

از عدیل سعید


ایف آئی اے کے اہلکار 10 نومبر 2015 کو پشاور میں، ایک انسدادِ منی لانڈرنگ چھاپے کے دوران برآمد ہونے والی رقم دکھاتے ہوئے۔ [عدیل سعید]

ایف آئی اے کے اہلکار 10 نومبر 2015 کو پشاور میں، ایک انسدادِ منی لانڈرنگ چھاپے کے دوران برآمد ہونے والی رقم دکھاتے ہوئے۔ [عدیل سعید]

پشاور -- پاکستانی حکام کالعدم انتہاپسند تنظیموں اور ان کے سہولت کاروں کے بینک کھاتوں کو منجمد کرتے ہوئے دہشت گردی میں سرمایہ کاری کے خلاف شکنجہ کس رہے ہیں۔

سٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے 8 ستمبر کو تمام بینکوں اور مالیاتی اداروں کو ہدایات جاری کیں کہ 2،021 کالعدم تنظیموں اور افراد کے کھاتے منجمد کر دیئے جائیں جن کے نام پاکستان کے انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997 کے چوتھے شیڈول میں درج ہیں۔

ایس بی پی کے ترجمان عابد قمر نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ یہ ہدایات "مجوزہ تنظیموں اور افراد کے خلاف کارروائی کے بارے میں وزارتِ داخلہ اور قومی محکمۂ انسدادِ دہشت گردی (نیکٹا) کی جانب سے ہدایات" کی تعمیل میں دی گئی ہیں۔

عابد قمر نے کہا کہ کریک ڈاؤن کے پہلے مرحلے میں، ایس بی پی نے بینکوں کو ان 2،021 پیسے جمع کروانے والوں کے نام بھجوائے ہیں جن کے کھاتے حکومت منجمد کروانا چاہتی ہے۔

عابد قمر نے مزید کہا کہ حکام نے ان کھاتوں کو منجمد کرنے کے لیے بینکوں کو دو ہفتے کا وقت دیا۔ ایس بی پی جلد ہی مزید 1،319 کھاتے داروں کے نام جاری کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکام کی جانب سے دہشت گردی سے متعلقہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزامات کے بعد نیکٹا کی جانب سے 3،300 سے زاید افراد اور تنظیموں کے نام آئے تھے۔

انہوں نے کہا، "یہ پہلا موقع ہے کہ ایس بی پی نے دہشت گردی کے ساتھ تعلق کے شبہے میں اتنی بڑی تعداد میں کھاتوں کو منجمد کیا ہے۔"

عابد قمر نے کہا، "ایس بی پی اپنی ہدایات پر عمل درآمد کی مکمل پڑتال کرے گا۔"

ایس بی پی کے مطابق، ان 2،021 بدمعاش کھاتہ داروں میں سے 1،443 کا تعلق صوبہ پنجاب سے ہے اور دیگر کا تعلق پورے ملک سے ہے۔

عابد قمر نے کہا کہ ان 2،021 میں سے کسی کا تعلق بھی خیبرپختونخوا (کے پی) سے نہیں ہے، لیکن 1،319 ناموں کی دوسری فہرست میں سے اکثریت کا تعلق کے پی سے ہے۔

فہرست میں شامل ناموں میں اسلام آباد میں لال مسجد کے چوٹی کے خطیب، مولوی عبدالعزیز اور اہل سنت والجماعت کے رہنما مولوی احمد لدھیانوی کے نام شامل ہیں۔

پشاور کے ایک مقامی صحافی، وسیم احمد شاہ، جو قانونی کارروائیوں کو کور کرتے ہیں نے وضاحت کی، "انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997 کی شق 11 ایک مجوزہ فرد کی بالواسطہ یا بلاواسطہ ملکیتی رقم یا دیگر جائیداد کو منجمد کرنے اور ضبط کرنے کا اختیار دیتی ہے۔"

درست سمت میں ایک قدم

پاکستانی دفاعی تجزیہ کار اور دہشت گردی کے خلاف لڑنے والے حکام نے اس کارروائی کا خیرمقدم کیا ہے۔

26 ستمبر کو ڈان نے خبر دی کہ نیکٹا کے ایک سابق رابطۂ کار، طارق پرویز نے کہا، "یہ ایک طویل عرصے سے منتظر درست سمت میں ایک قدم ہے۔"

انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ نیشنل ایکشن پلان (این اے پی) پر عملدرآمد کو یقینی بناتا ہے، جسے حکومت نے دہشت گردی کے خلاف لڑنے کے لیے جنوری 2015 میں نافذ کیا تھا۔

پرویز نے دہشت گردوں کے خلاف دیگر کارروائیوں کا بھی مطالبہ کیا: ان کے پاسپورٹوں اور اسلحہ لائسنسوں کی منسوخی اور ان کے سفر پر پابندی عائد کرنا۔

وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر، پشاور کے رضوان شاہ نے کہا کہ بڑے پیمانے پر کھاتوں کو منجمد کرنا "ریاستی اداروں کی مدد ہو گا جو پہلے ہی ملک میں دہشت گردی میں سرمایہ کاری کو روکنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔"

رضوان، جو ایف آئی اے کے لیے منی لانڈرنگ کے خلاف لڑتے ہیں، نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ ایسی پالیسیاں دہشت گردی میں سرمایہ کاری کے خاتمے کے لیے این اے پی کی حکمتِ عملی کا ایک جزو ہیں۔

اس دلیل کے جواب میں کہ حکام کو یہ کارروائی پہلے کرنی چاہیئے تھی، رضوان نے جواب دیا کہ ایسے فیصلوں کے لیے وقت اور غوروخوض درکار ہوتا ہے۔

کرنسی ایکسچینجوں اور بینکوں میں لانڈرنگ کو روکنا

ایجنٹ روزانہ چھاپے مارتے ہیں اور بہت سی گرفتاریاں کی ہیں، کا اضافہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایف آئی اے نے پشاور کی کرنسی ایکسچینجوں میں بڑی حد تک منی لانڈرنگ کو روک دیا ہے۔

انہوں نے کہا، "ایس بی پی کی جانب سے اٹھایا گیا نیا قدم بینکوں کے ذریعے سرکاری سطح پر دہشت گردی میں سرمایہ کاری کو روکنے میں مدد کرے گا۔"

پشاور کے مقامی ایک صحافی، مصنف اور دفاعی تجزیہ کار، عقیل یوسفزئی نے کہا، "کالعدم عسکری تنظیموں اور افراد کے بینک کھاتوں کو منجمد کرنا ایک بڑا اقدام ہے اور بہت ضروری تھا۔"

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "اگر ہم دہشت گردوں کی مالی رسد کو روکنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں، ہم دہشت گردی کے خلاف اپنی جنگ با آسانی جیت جائیں گے۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 3

تبصرہ 💬

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

افغانستان میں طالبان کے ممکنہ امن مذاکرات میں پاکستان کو کیا کردار ادا کرنا چاہیئے؟

نتائج