http://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2016/09/14/feature-02
| تعلیم

فاٹا عسکریت پسندی کا مقابلہ نئی یونیورسٹی سے کر رہا ہے

عدیل سید

UNTRANSLATED

پشاور- پاکستان کے وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقے (فاٹا) ناخواندگی اور قبائلی لوگوں میں تعلیم کی وجہ سے، عسکریت پسندی سے سب سے متاثر ہونے والا علاقہ رہا ہے۔

عسکریت پسندوں کے خلاف کامیاب عسکری آپریشن کے بعد، حکام کو امید ہے کہ وہ اعلی تعلیم کا ادارہ قائم کرنے سے اس لعنت کو واپس آنے سے روک سکیں گے۔

خیبرپخونخواہ (کے پی) کے گورنر ظفر اقبال جھگڑا نے تیرہ جولائی کو، ڈیرہ آدم خیل میں نئی یونیورسٹی کی جگہ کے اپنے دورے میں کہا کہ فاٹا یونیورسٹی کو قائم کرنے کا ایک اور مقصد، تعلیم اور خواندگی کی لہر سے علاقے میں پائیدار امن کو یقینی بنانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی لعنت کو صرف تعلیم اور معلومات کو پھیلانے سے ہی روکا جا سکتا ہے اور ایک تعلیم یافتہ فاٹا قبائلی پٹی میں پائیدار امن کی ضمانت ہے۔

کے پی کے گورنر، جنہیں فاٹا میں انتظامی اتھارٹی حاصل ہے، کہا کہ خوشحالی، امن اور ترقی معیاری تعلیم کے ذریعے ہی حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تعلیم اور علم، ملک کی سماجی-اقتصادی ترقی کے لیے نہایت اہم تھے انہوں نے مزید کہا کہ قبائلی علاقوں میں "تعلیمی ایمرجنسی" ہے۔

فاٹا یونیورسٹی میں داخلے

فاٹا یونیورسٹی کے ایک مشیر، انوار احمد خواجہ کے مطابق، فاٹا یونیورسٹی میں داخلے کے لیے درخواست دینے کی آخری تاریخ 23 ستمبر ہے اور کلاسوں کا آغاز اکتوبر میں ہو گا۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ ہم نے چار مضامین میں داخلے کے لیے ایک اشتہار جاری کیا ہے جس میں پولیٹیکل سائنس، سوشیالوجی، ریاضی اور مینجمنٹ سائنسز شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ یونیورسٹی فرنٹئر ریجن کوہاٹ کے علاقے ڈیرہ آدم خیل میں واقع ہے اور آغاز میں کلاسوں کا انعقاد گورنمنٹ ڈگری کالج ڈیرہ آدم خیل میں ہو گا۔

انوار احمد نے کہا کہ فاٹا یونیورسٹی 466 کنال (58 ایکڑوں) پر بنے گی جس میں سے 266 کنال (33 ایکڑ) کو 133 ملین روپے (133,000 امریکی ڈالر) کے عوض خرید لیا گیا ہے جب کہ باقی 200 کنال کو جلد خرید لیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ پہلی کلاس کے لیے، یونیورسٹی ہر مضمون میں، چالیس طلباء، جن میں لڑکیاں اور لڑکے دونوں شامل ہیں، کو داخلے کی پیش کش کرے گی۔ وقت گزرنے کے ساتھ، فاٹا کی ہر ایجنسی میں کیمپس اور مزید شعبے قائم کیے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے ممتاز ماہرِ تعلیم اور جیوسائنٹسٹ طاہر شاہ کو یونیورسٹی کا وائس چانسلر تعینات کیا ہے جب کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان اساتذہ اور انتظامی عملے کو بھرتی کر رہا ہے۔

فاٹا کے سیکریٹریٹ پلاننگ اور ڈویلمپنٹ ڈپارٹمنٹ کے ایک اہلکار اقبال احمد نے کہا کہ فاٹا یونیورسٹی کے منصوبے پر کل لاگت کا اندازہ 4.7 بلین روپے (40.7 ملین امریکی ڈالر) لگایا گیا ہے اور اس وقت حکومت نے اس کے پہلے مرحلے کے شروع کرنے کے لیے 250 ملین روپے (2.5 ملین امریکی ڈالر) مختص کیے ہیں۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "حکومت فاٹا یونیورسٹی کے قیام میں بہت زیادہ دلچسپی لے رہی ہے کیونکہ قبائلی پٹی کے لوگوں نے علاقے میں دہشت گردوں کی موجودگی سے بہت زیادہ تباہی کا مشاہدہ کیا ہے"۔

فاٹا سیکرٹریٹ کے اعدادوشمار کے مطابق فاٹا انہوں نے کہا کہ فاٹا میں خواندگی کی شرح 33.3 فیصد ہے جو کہ ملکی اوسط 58 فیصد سے بہت نیچے ہے جس کا تخمینہ 14-2013 میں لگایا گیا تھا۔

مشعل راہ

وائس چانسلر طاہر شاہ نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "فاٹا یونیورسٹی قبائلی علاقے میں اولین یونیورسٹی ہے اور یہ ترقی، خواندگی اور خوشحالی کا ایک نیا دور لانے میں مشعلِ راہ ثابت ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ "ہم تقریبا دو سو طلباء کے ساتھ کلاسوں کا آغاز کر رہے ہیں مگر عمارتوں کی تعمیر کے مکمل ہو جانے اور مختلف ایجنسیوں میں کیمپسوں کے کھل جانے کے بعد یونیورسٹی میں 10,000 طلباء کی گنجائش ہو گی۔

طاہر نے امید ظاہر کی کہ فاٹا یونیورسٹی کی تعمیر چار یا پانچ سال میں مکمل ہو جائے گی۔

طاہر نے کہا کہ وزیراعظم نواز شریف فاٹا یونیورسٹی کے پہلے مرحلے کا باقاعدہ افتتاح کریں گے "جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت اس تعلیمی ادارے کو قائم کرنے میں انتہائی دلچسپی رکھتی ہے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ یونیورسٹی کے دوسرے مرحلے میں میڈیکل اور انجنئرنگ کالجوں کی تعمیر شامل ہو گی۔

پشاور یونیورسٹی کے سابقہ وائس چانسلر پروفیسر قبلہ ایاز نے کہا کہ "فاٹا یونیورسٹی علاقے میں ترقی اور خوشحالی لانے میں نہایت اہم کردار ادا کرے گی جس نے عسکریت پسندی اور انتہاپسندی کے باعث بہت زیادہ تباہی اور بے چینی دیکھی ہے"۔

ایاز نے کہا کہ نئی یونیورسٹی میں فاٹا کی صورت حال کو بدلنے کی بہت زیادہ صلاحیت ہے جو کہ عسکریت پسندوں کی پناہ گاہ کے طور پر مشہور رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ قبائلی پٹی کے طلباء کو عسکریت پسندی اور دہشت گردی کے خلاف عسکری آپریشن کے باعث بے گھر ہو جانے سے بہت مصائب کا سامنا کرنا پڑا ہے اور حکومت کو اعلی تعلیم حاصل کرنے کے خواہش مند طلباء کو وظائف کی پیشکش کر کے سہولت فراہم کرنی چاہیے۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "فاٹا یونیورسٹی قبائلی طلباء کو ملک اور ان کے علاقے کی ترقی میں اہم کردار ادا کرنے کے لیے ایک اچھا موقع فراہم کر سکتی ہے جس نے عسکریت پسندی اور دہشت گردی کے باعث ناقابل بیان تباہی اور مصائب کا مشاہدہ کیا ہے"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
0
نہیں
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی
Captcha