تعلیم

خیبرپختونخوا نے اسکولوں کی حفاظت میں اضافہ کر دیا

از جاوید خان

23 اگست کو صوابی میں پولیس کمانڈوز ایک تعلیمی ادارے میں فرضی حفاظتی مشقیں کرتے ہوئے۔ [جاوید خان]

23 اگست کو صوابی میں پولیس کمانڈوز ایک تعلیمی ادارے میں فرضی حفاظتی مشقیں کرتے ہوئے۔ [جاوید خان]

پشاور -- عسکریت پسندوں کی جانب سے دھمکیوں کے بعد اور نئے تعلیمی سال کے آغاز کے ساتھ پورے خیبرپختونخوا (کے پی) میں تعلیمی اداروں کے حفاظتی انتظامات میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔

پشاور کے سینیئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) آپریشنز عباس مجید مروت نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "بیس خصوصی انسدادِ دہشت گردی کے اسکواڈز اور پولیس فورس کی یونٹوں کو اسکولوں، کالجوں اور جامعات کی حفاظت پر نظر رکھنے کے لیے پورے ضلع میں تعینات کیا گیا ہے۔"

انہوں نے کہا کہ ہر یونٹ 6 یا 7 خصوصی طور پر تربیت یافتہ پولیس کمانڈوز پر مشتمل ہے۔

مروت نے کہا، "مزید برآں، تمام سب ڈویژنل افسران کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ پہرے کی جانچ پڑتال کریں اور روزانہ کی بنیاد پر تعلیمی اداروں کا معائنہ کریں۔"

ایس ایس پی مع دیگر افسران نے اپنے حفاظتی انتظامات کا معائنہ کرنے کے لیے صوبائی دارالحکومت کے اسکولوں، کالجوں اور جامعات کے درجنوں دورے کیے۔

اسکولوں کے حفاظتی انتظامات میں دسمبر 2014 میں آرمی پبلک اسکول پشاور پر حملے کے بعد اضافہ کیا گیا تھا جس میں 140 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے تھے، جن میں اکثریت بچوں کی تھی۔ مزید برآں، باچا خان یونیورسٹی بھی جنوری 2016 کو ایک حملے کی زد میں آئی تھی، جس کے نتیجے میں 21 افراد جاں بحق ہوئے تھے اور بہت سے دیگر زخمی ہو گئے تھے۔

کے پی وزیرِ تعلیم عاطف خان نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "ہم نے سرکاری اسکولوں کی بیرونی دیواروں کو اونچا کر دیا ہے، جبکہ خاردار تاریں بھی لگائی گئی ہیں تاکہ کوئی بھی عقبی جانب سے ان دیواروں کو نہ پھلانگ سکے۔"

انہوں نے کہا کہ کے پی حکومت نے اسکولوں کی عمارتوں اور لاکھوں بچوں کے تحفظ کو یقینی بنانے میں مدد کے لیے بہت سے اسکولوں کے پہرے پر مامور محافظوں کو تربیت بھی دی ہے۔

پورے کے پی میں اسکولوں کا سخت پہرہ

صوابی اور دیگر اضلاع میں جامعات، کالجوں اور اسکولوں پر پولیس اور محافظوں کی چوکسی کی سطح کو دیکھنے کے لیے اگست اور ستمبر کے دوران پولیس کمانڈوز نے فرضی مشقیں کیں۔

ضلعی پولیس افسر کوہاٹ محمد شعیب اشرف کے مطابق، کوہاٹ میں 1،300 اسکول، کالج اور جامعات ہیں۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "تمام پولیس افسران اور ان کی ٹیموں کو صبح سے بعد دوپہر تک ان تعلیمی اداروں کے قرب و جوار میں کثرت سے گشت کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔"

اسکولوں کی انتظامیہ کو بھی ہدایات دی گئی ہیں کہ وہ اضافی اقدامات کریں، بشمول سیکیورٹی کیمروں کی تنصیب، واک تھرو حفاظتی گیٹ اور مناسب تربیت یافتہ پہرے داروں کی بھرتی۔

انہوں نے کہا، "اسکولوں کی اتنی بڑی تعداد کے ساتھ، پولیس کے لیے اکیلے ان تمام عمارتوں پر پہرہ دینا ممکن نہیں ہے۔"

اپر دیر کے ڈپٹی کمشنر محمد عثمان نے 27 اگست کو ہونے والے ایک اجلاس کے دوران محکمۂ تعلیم اور دیگر متعلقہ اداروں کو تمام عمارتوں کے حفاظتی انتظامات میں اضافے کی ہدایات جاری کی تھیں۔

تقریباً اسی وقت، کے پی انسپکٹر جنرل آف پولیس، ناصر خان درانی نے مرکزی پولیس دفتر میں ایک اجلاس کے دوران تمام ریجنل پولیس افسران کو تعلیمی اداروں اور ان کے علاقوں میں حفاظتی انتظامات بڑھانے کی ہدایت کی تھی۔

انہوں نے کہا، "تمام ریجنل اور ضلعی پولیس افسران کو تعلیمی اداروں کی حفاظت کی پڑتال ان کے علاقوں میں کرنی چاہیئے تاکہ یقینی بنایا جائے کہ مناسب اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔"

اسکولوں، پولیس کا مل جُل کر کام کرنا

مئی اور جون میں، پولیس اور حکومت کی جانب سے ہدایات کے باوجود موزوں حفاظت کا انتظام نہ کرنے پر اسکولوں کی انتظامیہ کے خلاف بہت سے مقدمات قائم کیے گئے تھے۔

پولیس نے حفاظت کے لیے اسلحہ رکھنے کے لیے اسکولوں کے پہرے داروں کو عارضی اجازت نامے بھی مہیا کیے تھے۔

پشاور میں ایک نجی اسکول کے پرنسپل، جہانزیب خان نے کہا، "اپنی دیواروں کو اونچا کرنے اور بیرونی دیواروں پر خاردار تار نصب کرنے کے علاوہ، ہم نے خودکار رائفلوں سے مسلح دو چوکیدار بھی بھرتی کیے ہیں۔"

انہوں نے کہا کہ اسکولوں کے اندر اور ان کے اردگرد حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے پولیس اور اسکولوں کی انتظامیہ دونوں ہی اپنی ہر ممکن کوششیں کر رہے ہیں۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 1

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500

آداب میں آپ کی پوسٹ پڑھ رہا ہوں، لیکن چند پشتو الفاظ درست نہیں۔ برائے مہربانی اپنی پشتو تحریر کو بہتر کرنے کی کوشش کریں۔ شکریہ

جواب