|

سفارتکاری

پاکستان اور افغانستان کی دہشت گردی کے خلاف جنگ، تجارت میں اضافہ

حکام اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ترقی کی حوصلہ افزائی کرنے اور علاقائی امن حاصل کرنے کے لیے کئی منصوبے زیرِ تکمیل ہیں۔

از امداد حسین


پاکستان میں افغان سفیر عمر زخیوال (بائیں) اور پاکستانی آرمی چیف جنرل راحیل شریف مئی میں راولپنڈی میں ملاقات کرتے ہوئے۔ [بشکریہ آئی ایس پی آر]

پاکستان میں افغان سفیر عمر زخیوال (بائیں) اور پاکستانی آرمی چیف جنرل راحیل شریف مئی میں راولپنڈی میں ملاقات کرتے ہوئے۔ [بشکریہ آئی ایس پی آر]

اسلام آباد -- ترقی اور تجارت کی حوصلہ افزائی کرنے اور علاقے میں امن بحال کرنے کے لیے پاکستان اور افغانستان بہت سے منصوبوں میں ایک دوسرے سے تعاون کر رہے ہیں۔

پاکستانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نفیس زکریا نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ پاکستانی حکام کی جانب سے منظور ہونے والا حالیہ ترین منصوبہ پشاور-کابل ایکسپریس وے ہے۔

پاکستانی قومی محکمۂ شاہرات (این ایچ اے) کے مطابق، پایۂ تکمیل کو پہنچنے پر، ایکسپریس وے پشاور اور کابل کے درمیان 276 کلومیٹر پر پھیلا ہو گا۔

این ایچ اے کے مطابق، ہائی وے افغانستان اور پاکستان کی کراچی کے بندرگاہ کے درمیان ایک گمشدہ کڑی کو ختم کرے گا۔ شہروں کو اس وقت ایک چھوٹی سڑک ملاتی ہے، لیکن مستقبل کا ایکسپریس وے چار رویہ ہو گا۔

این ایچ اے کے ترجمان کاشف زمان نے کہا کہ پاکستان نے پہلے ہی لگ بھگ افغانستان میں ہی، جلال آباد اور طورخم سرحد کراسنگ کے درمیان ایک دو رویہ (دوہری شاہراہ) ہائی وے بنانا شروع کر دی ہے، انہوں نے مزید کہا کہ ہائی وے، مکمل ہونے پر، سنہ 2006 کی بنی ہوئی جلال آباد-طورخم کی ایک رویہ سڑک کا متبادل ہو گی۔

اسلام آباد کے مقامی مرکز برائے تحقیق و دفاعی مطالعات کے انتظامی ڈائریکٹر امتیاز گل نے کہا، "ایسا تعاون بارآور سیاسی مشغولیت کے لیے ایک پیشگی چیز ہے۔ سڑکیں لوگوں کو قریب لاتی ہیں۔"

امن کے لیے تجارت ضروری ہے

دونوں ممالک بڑے تجارتی شراکت دار ہیں۔

ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کے مطابق، پاکستان افغانی مصنوعات کا سب سے بڑا درآمد کنندہ ہے، جس نے سنہ 2014 میں 188 ملین ڈالر (19.6 بلین روپے) کی مصنوعات خریدی تھیں۔

اسی سال، افغانستان نے 1.3 بلین ڈالر (135.9 بلین روپے) مالیت کا مالِ تجارت خریدا تھا۔

پاکستانی وزیرِ اعظم میاں محمد نواز شریف نے گزشتہ نومبر میں اسلام آباد میں افغانستان کے دورے پر آئے ہوئے وزیرِ خزانہ اقلیل احمد حکیمی کو تصدیق کی تھی کہ دونوں ممالک سنہ 2018 تک اپنی سالانہ دو طرفہ تجارت کو 5 بلین ڈالر (522.5 بلین روپے) تک بڑھانے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔

اس وقت نواز شریف نے کہا تھا، "پاکستان کا ماننا ہے کہ ایک پُرامن، خوشحال اور ترقی کرتا ہوا افغانستان ملک اور خطے کے بہترین مفاد میں ہے۔"

انہوں نے کہا، "ایک طویل مدتی دو طرفہ اور علاقائی شراکت داری کو مضبوط کرنے کے لیے ۔۔۔ پاکستان افغانستان کو ہر ممکن مدد فراہم کرے گا۔"

افغان وزارتِ محنت و سماجی امور کے ایک سابق مشیر، کابل کے صبور غیور نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان بہتر مواصلات اور نقل و حمل ضروری ہیں۔

انہوں نے کہا، "افغانستان اپنی خوراک کا 70 فیصد پاکستان سے درآمد کرتا ہے۔ کچھ سبزیاں، پولٹری اور دیگر خوراکیں ناقص سڑکوں پر طویل عبوری وقت کی وجہ سے خراب ہو جاتی ہیں۔"

انہوں نے کہا کہ یہ منصوبے افغانستان میں پاکستان کے تشخص کو بہتر بنائیں گے اور مزید تعاون پر منتج ہوں گے۔

فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر، عبدالرؤف عالم نے کہا کہ ناقص سڑکیں اور مواصلات افغانستان اور پاکستان کے درمیان تاجروں اور کاروبار مالکان کو خوار کر دیتے ہیں۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "سڑکوں کے منصوبے کا خطے میں معاشی سرگرمیوں پر مثبت اثر پڑے گا۔"

ترقی بطور انسدادِ دہشت گردی کا ذریعہ

دونوں ممالک کے حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان نے افغانستان میں تعلیم اور شعبے کی ترقی کے لیے منصوبے بھی بنا رکھے ہیں۔

زکریا نے کہا کہ حالیہ برسوں میں پاکستان نے بلخ میں ایک انجینیئرنگ یونیورسٹی بنانے، کابل یونیورسٹی میں فنون کا ایک شعبہ بنانے، ننگرہار یونیورسٹی میں سائنس کا ایک شعبہ بنانے اور کابل میں رحمان بابا ہائی اسکول بنانے میں افغانستان کی مدد کی تھی۔

مزید برآں، پاکستان نے کابل، لوگر اور جلال آباد میں تین ہسپتال قائم کرنے میں مدد کی تھی۔

یہ اقدام ممالک کے درمیان فہم کو بہتر بنانے میں مدد کرے گا، کا اضافہ کرتے ہوئے، غیور نے کہا کہ پاکستان ہزاروں افغان طلباء و طالبات کو پاکستانی یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے وظائف سے نواز رہا ہے۔

اسلام آباد کے مقامی ایک دفاعی تجزیہ کار لیفٹیننٹ جنرل (ر) امجد شعیب نے کہا کہ ایسے اقدامات افغانستان اور پاکستان کو ایک دوسرے کے قریب لائیں گے اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کارروائی سمیت دیگر شعبوں میں تعاون کو بڑھائیں گے۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ تعلیم، سماجی خدمات اور بہتر معاشی مواقع انتہاپسندی کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں۔

اس امید کا اظہار کرتے ہوئے کہ پاکستان اور افغانستان اسی طرح کے ایک دو طرفہ معاہدے پر پہنچ جائیں گے، انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے پاکستان اور افغانستان حال میں دیگر دو ممالک کے ساتھ ایک چوطرفہ تعاون اور رابطے کے نظام میں داخل ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک پہلے ہی عسکری تربیت اور دفاعی تعاون پر وفود کے تبادلے میں ایک دوسرے سے تعاون کر رہے ہیں۔

ایک ہمہ جہت تعلق

پاکستان میں افغان سفیر عمر زخیوال نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ پاکستان اور افغانستان میں ایک "ہمہ جہت" تعلق قائم ہے، "لہٰذا تعاون کے شعبوں کی کوئی کمی نہیں ہے۔"

دونوں اطراف انسدادِ دہشت گردی پر تعاون کو مزید بڑھانے پر کام کر رہی ہیں، کا اضافہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا، "ان میں تحفظ، تجارت، عبور، اور معاشی تعاون شامل ہیں۔"

انہوں نے کہا کہ جون کے مہینے میں تاشقند میں، دونوں ممالک نے تحفظ اور سرحد کے آر پار لوگوں اور گاڑیوں کی نقل و حرکت کے ضوابط کے لیے ایک دوطرفہ طریقۂ کار پر اتفاق کیا تھا۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 1

تبصرہ 💬

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

کیا آپ نئی حکومت کی جانب سے ہندوستان کے ساتھ امن کی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں؟

نتائج