|

دہشتگردی

ایران کے ملوث ہونے سے شام کی جنگ بھڑک اٹھی: تجزیہ کار

ماہرین کا کہنا ہے کہ شام کی جنگ میں ایران کی شمولیت نے تنازع کو طویل کر دیا اور خطے بھر میں تناؤ پیدا کر دیے۔

قاہرہ سے ولید ابوالخیر


شام کے شہر حلب میں حزب اللہ جنگجو۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کی پشت پناہی کے حامل گروہ کی شام میں مداخلت نے فرقہ ورانہ تنازع کو بھڑکا دیا ہے۔ [تصویر بشکریہ صالح الافیسی]

شام کے شہر حلب میں حزب اللہ جنگجو۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کی پشت پناہی کے حامل گروہ کی شام میں مداخلت نے فرقہ ورانہ تنازع کو بھڑکا دیا ہے۔ [تصویر بشکریہ صالح الافیسی]

ماہرین نے دیارونا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ شام میں ایران کی مداخلت نے تنازع کو طوالت دی، فرقہ ورانہ تناؤ کو بھڑکایا، اور دہشتگرد گروہوں کو شام کے علاقۂ عملداری میں داخل ہونے دیا، جنہوں نے اموات اور معاشی نقصان کے لحاظ سے شام کی عوام پر جنگ کی قیمت کو بڑھا دیا۔

فاتحی السیّد، جو مشرقِ وسطیٰ مرکز برائے علاقائی و تزویری علوم میں امورِ ایران میں مہارت حاصل کر رہے ہیں، نے کہا، ”2011 میں شام کی جنگ کی ابتدا ہی سے شام میں ایران کی عسکری مداخلت واضح تھی۔“

انہوں نے دیارونا سے بات کرتے ہوئے کہا، ”جب ہم ایرانی مداخلت کی بات کرتے ہیں، ہمارا مطلب ایرانی عناصر کی براہ راست شمولیت یا اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) کے جنگجوؤں کے عناصر کی مداخلت ہوتا ہے، جن میں زیادہ قابلِ ذکر لبنانی حزب اللہ ہیں۔“

انہوں نے کہا کہ ایران نے باقاعدہ جنگ میں تبدیل ہو جانے والے تنازع سے قبل ہی احتجاج کنندگان کو دبانے کے لیے ایرانی اور دیگر، ہر دو قومیتوں پر مشتمل جنگجو گروہ داخل کیے۔

السیّد نے کہا، ”اس کا مستحکم ترین ثبوت یہ ہے کہ ایران اور اس سے ملحقہ جنگجوؤں کی جانب سے تردید کے باوجود شام میں مارے جانے والے حزب اللہ کے ارکان سے متعلق اعلانات موجود ہیں۔“

معروف مثالوں میں 2011 میں شام میں مارے جانے والے جماعت کے پہلے جنگجو حسن علی ساماحا کی ہلاکت ہے، جس کا جنازہ مشرقی لبنان کے علاقہ زاحلے میں الکارک کے شہر میں ادا کیا گیا؛ اور 2012 میں شام میں جماعت کے ممتاز ترین کمانڈروں میں سے ایک، محمّد حسین الحج ناسِّف، المعروف ابو عبّاس کی ہلاکت ہیں۔

2013 میں سیکریٹری جنرل حسن نصراللہ کی ایک تقریر سے قبل حزب اللہ نے شام میں اپنے جنگجوؤں کی موجودگی کو تسلیم نہ کیا۔

السید نے کہا کہ اس مداخلت نے شام میں تنازع کو بدتر بنانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔

انہوں نے کہا، ”ایران کی ابتدائی مداخلت کا بنیادی مقصد واضح تھا، جو کہ ایک طرف سنّی فرقہ اور دوسری طرف علوی اور شعیہ فرقوں کے درمیان تنازع کو بھڑکا کر شام کی معروف [احتجاجی] تحریک کو فرقہ ورانہ طرز کے مسلح ٹکراؤ میں تبدیل کرنا تھا، جس سے شام کی عوام کو اس پالیسی کا یرغمال بنایا جا سکے۔“

آئی آر جی سی افسران کی جانب سے شام کی کاروائیوں کی نگرانی

حلب کے شہر میں فری سیرین آرمی (ایف ایس اے) کے ایک اہلکار صالح الافیسی نے کہا، ”[تمام تر] صوبہ حلب اور بطورِ خاص حلب شہر کے قریب جاری معرکوں نے ایران کی جانب سے شامی فوج کو فراہم کی جانے والی لامتناہی حمایت کو آشکار کیا ہے۔“

انہوں نے کہا کہ جنگ کے حالیہ محاذوں میں سے کئی، جیسا کہ حلب میں الخالدیہ اور بنی زید محاذ کو ایران کی القدس فورس اور حزب اللہ فورس افرادی قوت فراہم کر رہی ہیں، جن کی محاز پر حرکات کو ایرانی افسران کی زیرِ نگرانی آپریشن رومز سے ہدایات دی جا رہی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان گروہوں کی ایف ایس اے کے عناصر حمایت کر رہے ہیں اور ان میں سے متعدد پکڑے بھی جا چکے ہیں۔

الافیسی نے کہا، ”اگر ایرانی مداخلت اور وہ غیر شامی عسکری دھڑے نہ ہوتے، جنہین وہ حزبِ اختلاف کے گروہوں سے لڑنے کے لیے لایا، تو تین برس قبل جنگوں کے خاتمے کے ساتھ شام میں امن آ چکا ہوتا۔“

انہوں نے کہا کہ آئی آر جی سی کی نگرانی اور اس کی حمایت کے ساتھ متعدد ملیشیا تشکیل پائے اور وہ حالیہ طور پر لبنان کی سرحد سے ساحلی علاقوں تک اور دمشق سے حماہ اور حلب تک شام بھر میں متعدد علاقوں میں تعینات ہیں۔

الافیسی کے مطابق، لبنانی، عراقی، افغانی اور پاکستانی سمیت متعدد قومیتوں کی موجودگی قابلِ ذکر ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئی آر جی سی کی پشت پناہی رکھنے والے دیگر گروہوں، بشمول عراقی گروہوں البدر کور، ابوالفضل العبّاس برگیڈ اور اسائیب اہل الحق اور یہاں تک کہ یمنی گروہوں کو بھی دمشق کے قریب دیکھا گیا اور جو انصراللہ کے نام سے ہیں۔

ایران کے دہشت گرد گروہوں سے روابط

الشرق سینٹر فار ریجنل اینڈ اسٹریٹجک اسٹڈیز کے ایک محقق سامی غیث نے بتایا۔ "ایران کی شام میں براہ راست مداخلت نے تکفیری اور دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو تقویت دی ہے، جس سے ایران کو شام میں مختلف ممالک سے اپنے لائے ہوئے گروہوں سے جنگ کے لئے موجودگی کا ایک بہانہ ملا ہے۔"

جو بھی شام میں ہونے والے واقعات کی ترتیب کا غور سے مشاہدہ اور جانچ کرتا ہے دیکھے گا کہ عالمی دہشت گرد گروہوں خصوصی طور سےالقاعدہ کے سریع الحرکت پھیلاؤ کی اطلاعات ایرانی مداخلت سے جڑتی نظر آتی ہیں۔

چنانچہ، یہ تنازعہ کو فرقہ وارانہ بنیادوں قائم گروہوں کے درمیان براہ راست تصادم کی طرف دھکیل دے گا۔

انہوں نے بتایا، کئی سراغ ہیں جو افغانستان سے ایران، پھر عراق اور وہاں سے شام منتقل ہوجانے والے القاعدہ کے بہت سے رہنماؤں کی حمایت سے ایران کے ملوث ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

غیث نے بتایا، ان میں سے بہت سوں نے النصرہ فرنٹ (اے این ایف) قائم کی جو القاعدہ کی شامی شاخ ہے، جبکہ ایک دوسرا گروہ دولت اسلامی عراق و شام (آئی ایس آئی ایل) کا قیام عمل میں لایا۔

انہوں نے بتایا، "ان اقدامات کے ساتھ دہشت گرد گروہوں کو مکمل حمایت فراہم کر کے شام میں صورت حال کو بھڑکتا رکھنے سے ایران نے یقینی بنایا ہے کہ شام کے ساتھ ساتھ تمام خطے میں کشیدگی برقرار رکھی جائے۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 13

تبصرہ 💬

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

کیا آپ کو روس کی پاکستان میں بڑھتی ہوئی دلچسپی پر تشویش ہے؟

نتائج