|

سلامتی

خیبرپختونخواہ کے رہائشیوں کا پولیس کو خراج تحسین

یونیورسٹی کے طلباء نے گلاب پیش کر کے دہشتگردی کے خلاف لڑائی میں پولیس کی قربانیوں کی پذیرائی کی۔

اشفاق یوسفزئی


23 جولائی کو پشاور میں سرحد یونیورسٹی آف سائینس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی کا ایک طالبعلم ایک پولیس افسر کو گلاب پیش کر رہا ہے۔ [اشفاق یوسفزئی]

23 جولائی کو پشاور میں سرحد یونیورسٹی آف سائینس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی کا ایک طالبعلم ایک پولیس افسر کو گلاب پیش کر رہا ہے۔ [اشفاق یوسفزئی]

پشاور — خیبر پختونخواہ (کے پی) پولیس دہشتگردی کے خلاف اپنی بہادری کی وجہ سے معاشرے کے تمام طبقات سے خراج تحسین وصول کر رہی ہے۔

پولیس کی قربانیوں کو باقاعدہ طور پر تسلیم کرنے والا تازہ ترین گروہ پشاور کی سرحد یونیورسٹی آف سائینس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے طلبا ہیں، جنہوں نے 23 جولائی کو متعدد مقامی ناکوں کا دورہ کیا اور پولیس افسروں کو گلاب پیش کیے۔

ایک طالبہ جویریہ خان، جنہوں نے کم ازکم 20 ناکوں کا دورہ کیا اور پولیس کو پھول پیش کیے، نے کہا،” ہم پولیس کی اپنے فرائض سے لگن کی تعظیم کرتے ہیں جس کی بدولت لوگ مکمل محفوظ ہیں۔“

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا،” پولیس عوام کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے دن رات اپنے فرائض انجام دیتی ہے۔ گزشتہ چند سالوں میں ہماری پولیس نے متعدد دہشت گردوں کو گرفتار یا ہلاک کیا ہے۔“

بہادری اور فخر کے ساتھ خدمت

پولیس انسپیکٹر ظاہر خان نے کہا کہ عوام سے پھول وصول کر کے اسے بہت مسرت ہوئی۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، ”انہوں نے یونیورسٹی روڈ، رنگ روڈ اور کنٹونمنٹ کے علاقوں میں ہماری پولیس سے ملاقات کی اور شہر میں امن کو برقرار رکھنے کے لیے ہماری محنت کے اعتراف میں پھولوں کے تحائف پیش کیے۔“

انہوں نے کہا، ”ہم طالبِ علموں کی جانب سے خیرخواہی کی اس علامت کے بعد فی الحقیقت فخر محسوس کر رہے ہیں۔ اس سے ہماری مزید حوصلہ افزائی ہو گی، اور ہمارا عملہ عوام کے تحفظ کے لیے کوئی کسر نہ اٹھا رکھے گا۔“

پشاور میں ایک سیکیورٹی تجزیہ کار خادم حسین نے کہا کہ پولیس پر پھول نچھاور کرنا پولیس پر طالبِ علموں کے اعتماد کے درجہ کو ظاہر کرتا ہے۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، ”یہ عسکریت پسندوں کے خلاف جنگ میں پولیس کی جانب سے بہادری کا مظاہرہ ہے کہ طالبِ علم انہیں پھول پیش کر رہے ہیں۔ یہ علامت شورشیوں کے ساتھ مزید جارحانہ طور پر پیش آنے میں پولیس اہلکاروں کو مزید ہمت دلائے گی اور ان کی حوصلہ افزائی کرے گی۔“

انہوں نے کہا کہ حالیہ برسوں میں پولیس نے سینکڑوں حملوں کو ناکام بناتے ہوئے ان گنت جانیں بچائیں۔ مزید برآں وہ سکولوں اور پولیو ویکسینیشن ٹیموں کو دہشتگردوں سے بچا رہے ہیں۔

حسین نے کہا، ”پولیس میں پیشہ ورانہ طور پر بہتری آئی ہے۔ وہ صوبے بھر میں عسکریت پسندوں کو پکڑ رہے ہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں انہوں نے شرپسندوں کی دہشتگردی کی سینکڑوں کوششیں ناکام بنائی، اور اس وجہ سے انہوں نے بہت عزت کمائی ہے۔“

انہوں نے کہا، ”امنِ عامہ کی صورتِ حال بہتر ہوئی ہے کیوں کہ ہماری پولیس تشدد کے مرتکبین کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہے۔“

پولیس بے خوف ہے

کے پی کے ڈائیریکٹر جنرل ہیلتھ پرویز کمال خان نے کہا کہ طالبان کے لامتناہی سیلاب کے باوجود، کے پی پولیس اہلکار بے خوف ہیں۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، ”2012 سے اب تک [کے پی] اور سندھ کے صوبوں میں پولیو ویکسینیشن ٹیموں پر طالبان کے حملوں میں 40 سے زائد پولیس اہلکار شہید ہو چکے ہیں۔“

انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود بچوں کو پولیو ویکسین کے قطرے پلانے کا بندوبست کرنے اس اپاہج کر دینے والی بیماری سے ان کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے تعینات ہیلتھ ٹیموں کو پولیس مسلسل تحفظ فراہم کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا، ”پولیس نے پولیو کے خلاف ہماری لڑائی میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ یہ پولیس ہی کے مرہونِ منّت ہے کہ ہم نے صوبے میں 5.4 ملین بچوں کی حالیہ ویکسینیشن کو یقینی بنایا۔“

جامعہ پشاور میں ادارہ برائے علومِ امن و تنازعات کے ایک لیکچرار، احمد علی نے طالبِ علموں کی جانب سے پولیس پر گلاب نچھاور کرنے کی پذیرائی کی۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، ”طالبان عسکریت پسندوں پولیس اہلکاروں کو قتل کرتے رہے ہیں، ان کے دفاتر اور گاڑیوں پر حملے کرتے رہے ہیں، لیکن وہ کبھی اپنے فرائض کی انجام دہی اور لوگوں کو تحفظ فراہم کرنے سے نہیں ہچکچائے۔“

انہوں نے کہا، ”دہشتگردی کے خاتمہ کے لیے پولیس کا کردار نہایت قابلِ ستائش رہا ہے۔ ایک وقت تھا جب روزانہ تین خود کش حملے ہوتے تھے، لیکن پولیس ایک چٹان کی طرح کھڑی رہی اور دہشتگردوں کو جان بچا کر بھاگنے پر مجبور کر دیا۔“

انہوں نے مزید کہا، ”ہم پولیس کو قتل کرنے پر طالبان عسکریت پسندوں کی سختی سے مذمت کرتے ہیں اور پولیس سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہیں۔“

امن وامان کی بہتر صورتحال

پاکستان تحریک انصاف کے پارٹی سربراہ نے حال ہی میں بتایا کہ کے پی پولیس نے عسکریت پسندی کے خلاف زبردست کردار ادا کیا ہے۔

"پولیس نے دہشت گردی کو ختم کردیا ہے،" انہوں نے 19 جولائی کو پشاور میں بتایا۔ "وہ دیگر صوبوں کی پولیس کے لئے ایک رول ماڈل ہیں۔"

خان کی جماعت دہشت گردی سے حد درجہ متاثر کے پی میں حکومت کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا، "ہمیں خوشی ہے کہ لوگ اپنی پولیس کی حمایت کرتے ہیں۔ صرف [دہشت گردی کے خلاف] جنگ نہیں بلکہ گزشتہ دو سال میں امن وامان کی عمومی صورتحال میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔"

لکی مروت میں قائم ایک این جی او مروت فلاحی تنظیم کے سیکرٹری سمیع اللہ خان مروت نے بتایا ان کی تنظیم سیکورٹی ایجنسیز اور پولیس کی مدد سے وزیرستان سے بے گھر ہونے والے لوگوں کو امداد فراہم کرتی ہے۔

"پولیس کی کارکردگی کی وجہ سے اب صورتحال نہایت اچھی ہے"، انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا۔ "ہماری پولیس نے دیہاتوں میں بے گھر لوگوں کے ساتھ ان کے میزبانوں کی بھی امداد کی ہے۔"

"ہم نے لکی مروت کے ایک اسکول میں پانچ خاندانوں کو ٹہرایا، جہاں پولیس نے ہمیں بہترین تحفظ فراہم کیا،" انہوں نے بتایا۔ "گزشتہ دو سال میں طالبان نے دو مواقع پر بے گھر لوگوں پر حملے کیے لیکن پولیس نے ان کی کوشش کو ناکام بنادیا۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 2

تبصرہ 💬

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

2 تبصرے 💬

💬

waseem | 09-01-2016

اس پروگرام کو میی نے منعقد کیا تھا اور ان میی کوئی طالبہ جویریہ نام کی نہیی تھی


💬

اصغر رضا | 08-26-2016

میں طلبااس اقدام بہت خوش ھوا


انتخاب

انتخابات کے بعد پاکستان کو درپیش سب سے بڑا چیلنج کیا ہے؟

نتائج