| سلامتی

پاک بحریہ بین الاقوامی پانیوں کے تحفظ پر

جاوید محمود


5 اگست کو کراچی میں پاکستانی کموڈور بلال عبدالناصر (دائیں) برطانوی کموڈور گائے رابنسن سے انسدادِ دہشتگردی کے مشنز پر کام کرنے والی سی ٹی ایف-150 کا چارج لے رہے ہیں۔ یہ نویں بار ہے کہ پاک بحریہ انسدادِ دہشتگردی کے مشنز پر کام کرنے والی سی ٹی ایف-150 کا چارج لے رہی ہے۔ [بشکریہ پاک بحریہ]

5 اگست کو کراچی میں پاکستانی کموڈور بلال عبدالناصر (دائیں) برطانوی کموڈور گائے رابنسن سے انسدادِ دہشتگردی کے مشنز پر کام کرنے والی سی ٹی ایف-150 کا چارج لے رہے ہیں۔ یہ نویں بار ہے کہ پاک بحریہ انسدادِ دہشتگردی کے مشنز پر کام کرنے والی سی ٹی ایف-150 کا چارج لے رہی ہے۔ [بشکریہ پاک بحریہ]

کراچی — 5 اگست کو پاکستان نے ایک ٹاسک فورس کی کمان سنبھالی جو سمندر کے 2 ملین مربع میل سے زائد پر گشت کرتی ہے۔

بحرین میں ایک تقریب کے دوران پاک بحریہ نے نویں مرتبہ مشترکہ ٹاسک فورس-150 (سی ٹی ایف 150) کی کمان سنبھالی، جس کا اطلاق 15 اگست سے ہو گا۔

4 سمندروں کا گشت

یہ کثیر ملکی فورس 2001 سے کام کر رہی ہے اور بحیرۂ اسود، خلیج عدن، بحرِ ہند اور خلیج اومان کا گشت کرتی ہے۔ ہر چار سے چھ ماہ بعد اس کی کمان ایک سے دوسرے ملک کو منتقل ہوتی ہے۔

پاک بحریہ کے کموڈور بلال عبدالناصر نے پاکستان فاورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سی ٹی ایف-150 اتحادی بحری افواج (سی ایم ایف) کے زیرِ انتظام تین ٹاسک فورسز میں سے ایک ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کی ٹیم سی ٹی ایف-150 کی کمان کی ذمہ داری اٹھانے اور اپنے علاقۂ عملداری (اے او آر) میں بحری سلامتی برقرار رکھنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔

پاک بحریہ کی ترجمان لفٹننٹ کمانڈر نازیہ اقبال نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاک بحریہ سی ایم ایف کے ساتھ اپنی مصروفیت کے دوران نہ صرف اپنے بلکہ مشترکہ مقاصد حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہے۔

انہوں نے کہا، ”اتحادی فضا نے نہ صرف وسیع تر باہمی کاروائی کو فروغ دیا ہے بلکہ ہمیں بلند تر پیشہ ورانہ معیاروں تک پہنچنے کی تحریک بھی دی ہے۔“

انہوں نے کہا کہ بحریہ کی بار ہا تعیناتی اور دیگر بحری افواج کے ساتھ باہمی تعامل نے اسے علاقائی بحرانوں کو ردِّ عمل دینے کے لیے اور زیادہ باصلاحیت بنا دیا ہے۔

بین الاقوامی سلامتی میں ایک بڑا حصّہ

اقبال نے کہا کہ پاک بحریہ نے 2004 سے اب تک سی ایم ایف کو متواتر بحری بیڑے اور ہیلی کاپٹر فراہم کیے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ بحری بیڑوں، ہوائی جہازوں اور کمانڈ سٹاف فراہم کرنے کے اعتبار سے یہ سی ایم ایف میں شرکت کرنے والی بحری افواج میں دوسری فعال ترین فوج ہے۔

کراچی سے تعلق رکھنے والے سیکیورٹی تجزیہ کار کرنل (ریٹائرڈ) مختار احمد بٹ نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، ”سی ٹی ایف-150 کا مشن کسی بھی قسم کی دہشتگردانہ کاروائیوں کی انسداد کے لیے سلامتی کو برقرار رکھنا ہے۔“

سی ٹی ایف-150 کا دوسرا بڑا مقصد عملہ، اسلحہ اور منشیات کی ترسیل کرنے والے دہشتگردوں پر نظر رکھنا ہے۔

بٹ نے اس ٹاسک فورس کے اے او آر میں قزّاقوں کی جانب سے بحری جہازوں کے یرغمال بنائے جانے اور عملہ کے بدلے میں تاوان کا مطالبہ کرنے کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ برسوں میں سی ٹی ایف-150 کی ایک بڑی کامیابی قزّاقی کی وبا کا خاتمہ تھا۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ طور پر سی ٹی ایف -150 میں 16 بحری افواج حصہ لیتی ہیں۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

2
0
نہیں
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی Captcha