|

دہشتگردی

کے پی پولیس اپنے شہداء کو یاد کرتی ہے

4 اگست کے پی میں ایک مقدس دن تھا۔

از جاوید عزیز خان


کے پی پولیس کے اعلیٰ افسران 4 اگست کو پشاور میں کے پی پولیس کے یومِ شہداء کو مناتے ہوئے سپرنٹنڈنٹ پولیس ہلال حیدر کی قبر کو سلامی دے رہے ہیں۔ حیدر نومبر 2012 میں پشاور میں ایک خودکش بم دھماکے میں شہید ہوئے تھے۔ [جاوید عزیز خان]

کے پی پولیس کے اعلیٰ افسران 4 اگست کو پشاور میں کے پی پولیس کے یومِ شہداء کو مناتے ہوئے سپرنٹنڈنٹ پولیس ہلال حیدر کی قبر کو سلامی دے رہے ہیں۔ حیدر نومبر 2012 میں پشاور میں ایک خودکش بم دھماکے میں شہید ہوئے تھے۔ [جاوید عزیز خان]

پشاور - خیبرپختونخوا (کے پی) پولیس نے اپنے شہید ہونے والے ساتھیوں کو یاد کرنے کے لیے 4 اگست کو پورے صوبے میں یومِ شہداء -- دوسرے سال -- منایا۔

سنہ 1970 کے بعد سے، دہشت گردوں کے ساتھ کئی جھڑپوں میں، س،1،587 پولیس افسران جاں بحق ہو چکے ہیں۔ سنہ 2006 کے بعد سے، ان میں سے 1،204 جاں بحق ہوئے، کیونکہ دہشت گردی بدترین ہو گئی تھی -- قبل اس سے کہ پاکستانی فوج نے جون 2014 میں شمالی وزیرستان میں ایک آپریشن شروع کیا، جس کا دہشت گردی کو کچلنے میں پورے ملک پر اثر پڑا۔

20 جولائی تک، امسال دہشت گردی کے خلاف لڑتے ہوئے بیالیس افسران شہید ہو چکے ہیں۔

پورے صوبے میں شہداء کی یاد میں مساجد میں اور پولیس لائنز میں قرآن خوانی کی گئی۔ سینکڑوں افسران نے زندگیاں بچانے کے لیے خون کا عطیہ دیا۔ افسران اور جوانوں نے رخصت ہو جانے والی ارواح کے لیے فاتحہ خوانی کرنے کے لیے شہید پولیس افسران کی قبور پر حاضری دی۔

ایڈیشنل انسپکٹر جنرل (اے آئی جی) آف پولیس میاں محمد آصف اور پشاور کیپیٹل سٹی پولیس افسر مبارک زیب پشاور میں فرنٹیئر کانسٹیبلری (ایف سی) کے شہید کمانڈنٹ اور کے پی پولیس کے اے آئی جی صفوت غیور کو سلامی دینے کے لیے ان کی قبر پر گئے۔

وہ 4 اگست 2010 میں پشاور میں ایک خود کش بم دھماکے میں شہید ہو گئے تھے، اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اب تک کے پی پولیس کے اعلیٰ ترین عہدیدار ہیں۔ کے پی پولیس نے یومِ شہداء کا انعقاد ان کی برسی کے موقع پر کیا۔

اعلیٰ افسران دیگر شہید افسران کی قبور پر سیلیوٹ پیش کرنے کے لیے پورے کے پی میں پھیل گئے۔

پشاور پولیس نے یہ دن اس عہد کے ساتھ منایا کہ اگر ضرورت پڑی تو مزید قربانیاں بھی دی جائیں گی۔

زیب نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "کے پی پولیس نے شہداء اور زخمیوں کے خاندانوں کی فلاح و بہبود کو یقینی بنانے کے لیے ایک شعبہ قائم کیا ہے۔"

سب کی جانب سے اعتراف

کے پی کے وزیرِ اعلیٰ پرویز خٹک نے پشاور میں یومِ شہداء کی تقریب میں کہا، "کے پی پولیس ملک میں سب سے زیادہ بہادر محکمہ ہے۔ ہم ان سب کو سیلیوٹ پیش کرتے ہیں جنہوں نے قوم کے امن کے لیے اپنی جانیں قربان کیں۔"

خٹک نے کہا کہ کے پی پولیس ملک کی بہترین پولیس بن گئی ہے کیونکہ کے پی حکومت نے اس کے انتظام میں مداخلت نہ کرنے کی سخت پالیسی اپنائی ہے۔

انہوں نے کہا، "انہوں نے دہشت گردی میں کسی بھی دیگر [پاکستانی] پولیس محکمے سے زیادہ نقصان اٹھایا ہے۔ لیکن ان کا جذبہ ہمیشہ بلند رہا ہے۔"

کے پی انسپکٹر جنرل آف پولیس ناصر خان درانی نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "پولیس کو ان عظیم قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرنا چاہیئے جو پولیس اہلکاروں نے ملک میں امن کی خاطر دی ہیں۔"

ریسکیو 1122 ایمبولنس سروس کے ایک ترجمان، پشاور کے بلال احمد فیضی نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "ہمیں کے پی پولیس پر فخر ہے۔ انہوں نے کسی بھی دیگر سول محکمے سے زیادہ عظیم قربانی پیش کی ہے۔"

ریسکیو 1122 برسوں سے پورے خیبرپختونخوا میں دہشت گرد حملوں کی جائے وقوعہ کی طرف فوری طور پر بھاگتی رہی ہے۔

انہوں نے کہا، "یومِ شہداء کے پی پولیس کی جانب سے ایک شاندار اظہار ہے ۔۔۔ ان کے لیے جو اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران شہید ہوئے۔"

یومِ شہداء کے لیے انتظامات کئی ہفتوں سے ہو رہے تھے۔ درانی نے 17 جولائی کو علاقائی اور ضلعی پولیس افسران کو یومِ شہداء کے لیے انتظامات کرنے کا حکم دیا تھا۔ انہوں نے خون کے عطیات دینے کی تقریبات منظم کرنے اور بینر اور پوسٹر نمایاں کرنے کے لیے کمیٹیاں تشکیل دی تھیں۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 2

0 تبصرے

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

آپ کی رائے میں کیا کرتارپور راہداری کھولنے سے پاکستان اور انڈیا کے تعلقات بہتر ہوں گے؟

نتائج