http://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2016/08/01/feature-01
| کاروبار

خیبرپختونخوا ای رکشہ کے ساتھ نوجوانوں کے لیے ملازمتیں تخلیق کر رہا ہے

از جاوید خان


پشاور میں ایک پاکستانی شخص مئی کے مہینے میں شہر کے نئے ای رکشہ کا معائنہ کرتے ہوئے۔ ان نئی سواریوں کا مقصد شور اور ہوائی آلودگی کو کم کرنا، اور نوجوانوں کے لیے ملازمت کے مواقع فراہم کرنا ہے۔ [جاوید خان]

پشاور میں ایک پاکستانی شخص مئی کے مہینے میں شہر کے نئے ای رکشہ کا معائنہ کرتے ہوئے۔ ان نئی سواریوں کا مقصد شور اور ہوائی آلودگی کو کم کرنا، اور نوجوانوں کے لیے ملازمت کے مواقع فراہم کرنا ہے۔ [جاوید خان]

پشاور - نئے "آلودگی سے پاک" ای رکشہ خیبرپختونخوا (کے پی) کی مارکیٹ میں آ رہے ہیں، جو کہ ڈرائیوروں کے لیے اس تین پہیوں کی گاڑی کو صرف بجلی سے چلانے کے لیے آسان تر بنائیں گے۔

یہ سواریاں مئی میں سڑکوں پر ظاہر ہوئی تھیں۔ وہ پشاور میں چلتی ہیں، اور ڈرائیوروں کو امید ہے کہ وہ اسے باقی ماندہ کے پی اور وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقہ جات (فاٹا) میں لائیں گے۔

حکام پُرامید ہیں کہ اس مصنوعہ کا آغاز ملازمتیں پیدا کرے گا، جس سے بے روزگار نوجوانوں کو مفید ملازمتیں ملیں گی تاکہ انہیں دہشت گردی اور اچھوتوں والی دیگر سرگرمیوں سے بچایا جائے۔

پشاور کے مقامی دفاعی مشیر، میجر (ر) شکیل خان نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "دہشت گردی اور جرائم میں ملوث زیادہ تر افراد وہ ہیں جو بیروزگار ہیں۔"

انہوں نے کہا، "زیادہ ملازمتیں اور کاروباری مواقع جرائم اور عسکریت پسندی کی حوصلہ شکنی کریں گے۔"

سستے اور استعمال میں آسان

ای رکشہ مختلف رنگوں اور ڈیزائنوں میں آتے ہیں اور ان میں تین سے پانچ سواریاں اور کافی زیادہ سامان سما سکتا ہے۔

اس تین پہیوں کی گاڑی کے پشاور میں درآمدکنندہ، بلال آفریدی نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "بہت سے ڈیزائن موجود ہیں اور سستے ہیں۔"

ماڈل اور انجن کی صلاحیت پر منحصر، روایتی رکشہ کی قیمت 220،000 تا 300،000 (2،000 تا 2،861 ڈالر) کے مقابلے میں ای رکشہ کی قیمت تقریباً 240،000 روپے (2،289 ڈالر) ہے۔

آفریدی نے کہا کہ ہر ای رکشہ میں ایک طاقتور برقی موٹر ہے جو اسے مطلوبہ رفتار پر پہنچنے کے قابل بناتی ہے۔ یہ باآسانی چارج ہو جاتا ہے اور مکمل طور پر چارج ہونے میں سات گھنٹے تک کا وقت لیتا ہے۔ "ایک بار مکمل چارج ہو جانے پر، یہ 150 کلومیٹر تک جا سکتا ہے۔"

پشاور کے صحافی سلمان یوسف نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "اچھی بات یہ ہے کہ یہ رکشے ایک کار کی طرح مکمل طور پر ڈھانپے ہوئے ہیں اور آپ کو موسم کی وجہ سے بارش، گرمی یا سردی کے بارے میں فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں" انہوں نے مزید کہا کہ موٹرسائیکلوں یا عوامی سواری پر انحصار کرنے کی بجائے، خاندان بھی انہیں استعمال کر سکتے ہیں۔

زیادہ ملازمتیں، کم آلودگی

پشاور کی تنگ گلیوں میں رکشوں کو بہت زیادہ مقبولیت حاصل ہے، جس میں اندازاً 13،000 رجسٹرڈ اور ہزاروں کی تعداد میں غیر رجسٹرڈ رکشے ہیں۔

پشاور اور کے پی میں حکام صاف ایندھن والے ای رکشوں کے آنے کا خیرمقدم کرتے ہیں۔

کے پی محکمۂ آمدورفت کے ایک افسر محمد جمیل نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "ہزاروں پرانے رکشے شور کا سبب بنتے ہیں اور گاڑھا دھواں خارج کرتے ہیں۔"

انہوں نے کہا، "ایسی گاڑیاں جو دھواں نہ چھوڑیں اور شور کا سبب نہ بنیں ان کی پشاور اور ملک کے دیگر حصوں میں سخت ضرورت ہے،" انہوں نے مزید کہا کہ محکمۂ آمدورفت کے حکام ایسے ڈرائیوروں کو پکڑ رہے ہیں جن کے پاس ان کی گاڑیوں کے بالکل ٹھیک ہونے کی اسناد نہیں ہیں۔"

پشاور کے ایک رکشہ ڈرائیور، یار محمد نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "میں اپنے پرانے رکشہ کو بیچنے اور نیا ای رکشہ لینے کا ارادہ رکھتا ہوں۔"

انہوں نے کہا کہ مسافر اور ڈرائیور "بغیر شور اور ہوائی آلودگی کے ایک بہتر ماڈل کو بہت پسند کریں گے۔"

دفاعی تجزیہ کار خان کی تائید کرتے ہوئے، یار محمد نے کہا کہ اگر ای رکشہ کے پی اور فاٹا کو فتح کر لیتے ہیں، اس کا مطلب ہو ڈرائیوروں کے لیے مزید ملازمتیں۔

انہوں نے کہا، "جب لوگ اچھے پیسے کما رہے ہوں گے تو کوئی بھی جرائم کا ارتکاب نہیں کرے گا۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
0
نہیں
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی
Captcha