|

سلامتی

اے پی ایس متاثرین کے اہل خاندان کے مطابق عمر نارے کی موت 'خدائی انصاف' ہے

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ 2014 میں آرمی پبلک اسکول (اے پی ایس) کے قتل عام کے منصوبہ ساز کا افغانستان میں مارا جانا تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو بے اثر کردے گا۔

ظاہر شاہ


پشاور میں دسمبر 2014 کو اے پی ایس کے قتل عام  کے منصوبہ ساز عمر نارے کو بلا تاریخ کے ایک اسکرین شاٹ میں بائیں سے دوسرا دکھایا گیا ہے۔ وہ 9 جولائی کو افغانستان میں ہلاک ہو گیا۔ [بشکریہ ظاہر شاہ]

پشاور میں دسمبر 2014 کو اے پی ایس کے قتل عام کے منصوبہ ساز عمر نارے کو بلا تاریخ کے ایک اسکرین شاٹ میں بائیں سے دوسرا دکھایا گیا ہے۔ وہ 9 جولائی کو افغانستان میں ہلاک ہو گیا۔ [بشکریہ ظاہر شاہ]

پشاور – دسمبر 2014 میں آرمی پبلک اسکول (اے پی ایس) کے قتل عام کے منصوبہ ساز کی موت ننھے شہیدوں کے خاندانوں کے لئے اختتام اور سُکھ کا احساس لے کر آئی ہے۔

تحریک طالبان پاکستان کے 16 دسمبر،2014 کے حملے میں 122 بچے اور 22 اساتذہ جاں بحق ہوئے۔

پہلے غیر معروف، خلیفہ عمر منصور عرف عمر نارے اس وقت ٹی ٹی پی کے اہم کمانڈر کے طور پر سامنے آیا جب اس نے ایک ویڈیو میں ذمہ داری قبول کی۔

منصور کی موت

مکافات عمل 9 جولائی کو ہوا جب منصور اور دولت اسلامی عراق و شام (آئی ایس آئی ایل) اور تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے چار عسکریت پسند افغانستان کے صوبے ننگرہار میں مارے گئے۔

پاکستان آرمی کے ترجمان میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ نے 13 جولائی کو ایک ٹویٹ میں منصور کی موت کی تصدیق کی۔

منصور نے دیگر مظالم کی ذمہ داری بھی قبول کی۔ جن میں گزشتہ ستمبر میں بڈھ بیر پشاور میں پاکستانی فضائیہ کے اڈے پر حملہ جس میں 29 افراد ہلاک ہوئے اس کے ساتھ جنوری میں خیبر پختونخواہ (کے پی) چارسدہ میں باچا خان یونیورسٹی میں حملہ جس میں 18 طلبہ اور کلیہ کے ارکان نے جان کی بازی ہاری۔

منصور کو اس کے دبلے پن کی مناسبت سے نارے(دبلا) کہا جاتا تھا، مہمند ایجنسی میں مقیم ٹی ٹی پی کے ایک کمانڈر نے سنٹرل ایشیا آن لائن کو بتاتے ہوئے مزید کہا کہ منصوراپنی عمر کی تیسری دھائی کے آخر میں تھا۔

پاکستانی ملٹری کے ذرائع نے سنٹرل ایشیا آن لائن کو بتایا کہ منصور کے ساتھ ہلاک ہونے والے چار دہشت گردوں میں خودکش بمباروں کو تربیت دینے والا قاری سیف اللہ، اور آئی ایس آئی ایل کا ایک کمانڈر ملنگ شامل ہیں۔

منصور اور سیف اللہ ٹی ٹی پی کے ایک دھڑے سے تعلق رکھتے ہیں جو زیادہ تر پشاور اور درہ آدم خیل، وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات (فاٹا) میں کارروائیاں کرتے تھے۔ شمالی وزیرستان میں جون 2014 میں پاکستانی آرمی کے آپریشن ضرب عضب کے آغاز کے بعد وہ افغانستان فرار ہو گئے تھے۔

خدائی انصاف کا دن

منصور کے متاثرین کے خاندان اس کی موت کا سننے کے بعد چین کا سانس لے رہے ہیں، جبکہ پاکستانی سیکیورٹی تجزیہ کار ٹی ٹی پی کو پہنچنے والے بڑے دھچکے پر خوش ہیں۔

اے پی ایس کے 16 سالہ شہید، شیر شاہ کے والد طفیل خٹک نے کہا، ”آج ہم پھر روئے، لیکن یہ ان والدین کے لیے یومِ انصاف ہے جو اپنے پیاروں کو کھو بیٹھے۔ آج سنگدل قاتل مر گیا۔“

انہوں نے سنٹرل ایشیا آن لائن سے بات کرتے ہوئے کہا، ”یہ میرے بیٹے سمیت ان معصوم طلباء کے لیے خدا کے انصاف کا دن ہے جو دہشتگردوں کے ہاتھوں بے رحمی سے شہید کیے گئے۔“

انہوں نے کہا، ”نہ تو عمر نارائے، نہ کسی اور ہی کو اس قتلِ عام سے کچھ حاصل ہوا؛ والدین اور طلباء ۔۔۔ کو اپنی قربانی پر فخر ہے۔“

انہوں نے کہا، ”عمر اور دیگر دہشتگردوں نے اسلام کی کوئی خدمت نہیں کی، لیکن آج اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنے گناہوں کی جوابدہی کے لیے حاضر ہوں گے۔“

اے پی ایس میں شہید ہونے والے دسویں جماعت کے طالبِ علم اسفند خان کے والد اجون خان نے کہا، ”یہ ایک بڑا دن ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارے بچے اپنی قبروں میں پرسکون ہوں گے کیوں کہ آج انہوں نے قاتلوں کو خدا کے انصاف کا سامنا کرتے دیکھ لیا۔“

اجون اے پی ایس شہداء کے والدین پر مشتمل ایک انجمن، شہداء فاؤنڈیشن کے جنرل سیکریٹری ہیں جو اپنے بچوں کے قتل کے ذمہ دار دہشتگردوں اور ان کے معاونین کو سزا دینے کے لیے حکام سے مطالبہ کرنے والے والدین پر مشتمل ہے۔

انہوں نے سنٹرل ایشیا آن لائن سے بات کرتے ہوئے کہا، ”سب لوگ اے پی ایس حملے کے منصوبہ ساز کی موت پر شاداں ہیں، لیکن ہم چاہتے ہیں کہ دیگر مجرموں اور ان کے معاونین کو انصاف کے کٹہرے تک لایا جائے۔“

حسنین، جن کا بیٹا ہنزلہ زخمی ہوا، نے سنٹرل ایشیا آن لائن سے بات کرتے ہوئے کہا، ”ہم بہت خوش ہیں، لیکن ہمیں اس وقت چین آئے گا جب تمام دہشتگردوں اور ان کے خاموش معاونین کو دنیا کے لیے سبق بنانے کے لیے سرِ عام سزائیں دی جائیں گی۔“

ٹی ٹی پی کو بڑا دھچکہ

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹی ٹی پی رہنما ملّا فضل اللہ کے دو وفادار کلیدی کاروائیوں کے کمانڈر منصور اور سیف اللہ کا خاتمہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ایک بڑی فتح ہے اور اس سے اس دہشتگرد گروہ کا کاروائی اور رسد کا شعبہ ٹوٹ گیا ہے۔

پشاور سے تعلق رکھنے والے سیکیورٹی تجزیہ کار برگیڈئیر (ریٹائرڈ) محمّد سعد نے سنٹرل ایشیا آن لائن سے بات کرتے ہوئے کہا، ”عمر نارائے کی موت نہایت اہم ہے – اب افغانستان ہی سے تعلق رکھنے والے دو باقی ماندہ کمانڈران، ملّا فضل اللہ اور [ٹی ٹی پی کے ایک علیحدہ ہو جانے والے دھڑے] جماعت الاحرار کے، عمر خالد خراسانی کے خاتمہ پر توجہ مرکوز رہے گی۔“

سعد نے کہا کہ منصور کی موت اسلام آباد کی انسدادِ دہشتگردی کی کوششوں میں اضافہ کرے گی اور پاکستانی قوم کے لیے باعثِ سکون ہو گی۔

انہوں نے کہا، جیسا کہ چھاپہ مار جنگ میں نچلے درجے کے رہنما فوراً اپنے ہلاک شدہ کمانڈران کی جگہ لے لیتے ہیں۔

انہوں نے پاکستان اور افغانستان کی سرحد کے ساتھ حکومت کی عملداری سے باہر کے علاقوں میں معاشی ترقی اور انتظامی عملداری لانے کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ اس وجہ سے شرپسندوں کو بے اثر کرنے کے لیے پاکستان اور افغانستان کو مشترکہ کاوشیں کرنے اور ایک طویل المدت حکمتِ عملی وضع کرنے کی ضرورت ہے۔

فاٹا کے لیے پشاور سے تعلق رکھنے والے سابق سیکریٹری سلامتی، برگیڈیئر (ریٹائرڈ) محمود شاہ نے منصور کی موت کو ٹی ٹی پی کی منصوبہ بندی کے لیے ایک بڑا دھچکہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ منصور ٹی ٹی پی کے بیشتر حملوں کا مرکزی منصوبہ ساز تھا۔

انہوں نے سنٹرل ایشیا آن لائن سے بات کرتے ہوئے کہا، ”عمر نارائے اور قاری سیف اللہ کی اموات سے دہشتگردوں کا یہ گروہ بے اثر ہو جائے گا اور یہ اس نیٹ ورک کی عملی موت کے مترادف ہوں گی۔“

جامعہ پشاور کے ایریا سٹڈی سنٹر میں افغان و وسط ایشیا کے ایک سکالر پرویز اقبال ترین نے کہا کہ منصور کا نام دہشتگردی کے ساتھ منسلک ہو چکا تھا۔

انہوں نے سنٹرل ایشیا آن لائن سے بات کرتے ہوئے کہا، ”اس کی موت نہ صرف ان دہشتگردوں کی سرگرمیوں کو کمزور کرے گی۔ یہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ایک نفسیاتی فتح ہے اور ایک پیغام ہے کہ جلد یا بدیر، ہر دہشتگرد کو اسی انجام کا سامنا ہو گا۔“

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 0

تبصرہ 💬

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

کیا آپ کو روس کی پاکستان میں بڑھتی ہوئی دلچسپی پر تشویش ہے؟

نتائج