2016-07-18 | سلامتی

خیبرپختونخوا کی جانب سے اقلیتوں کے تحفظ کے لیے ٹھوس اقدامات

از اشفاق یوسفزئی

حکام کا کہنا ہے کہ صوبے نے مذہبی اقلیتوں کے تحفظ کے لیے بہت سے پروگرام شروع کیے ہیں۔


سکھ 29 مارچ کو پشاور میں تاریخی گردوارہ بھائی صاحب سنگھ کے فرش صاف کرتے ہوئے۔ گردوارہ، جسے 1947 میں بند کر دیا گیا تھا، اس روز عبادت کے لیے دوبارہ کھلا تھا۔ [شہباز بٹ]
سکھ 29 مارچ کو پشاور میں تاریخی گردوارہ بھائی صاحب سنگھ کے فرش صاف کرتے ہوئے۔ گردوارہ، جسے 1947 میں بند کر دیا گیا تھا، اس روز عبادت کے لیے دوبارہ کھلا تھا۔ [شہباز بٹ]
سکھ 29 مارچ کو پشاور میں تاریخی گردوارہ بھائی صاحب سنگھ کے فرش صاف کرتے ہوئے۔ گردوارہ، جسے 1947 میں بند کر دیا گیا تھا، اس روز عبادت کے لیے دوبارہ کھلا تھا۔ [شہباز بٹ]

حکام کا کہنا ہے کہ صوبے نے مذہبی اقلیتوں کے تحفظ کے لیے بہت سے پروگرام شروع کیے ہیں۔

پشاور - خیبرپختونخوا (کے پی) حکومت مندروں، گرجا گھروں اور گردواروں (سکھ عبادت گاہوں) کو طالبان کے حملوں سے بچانے اور عسکریت پسندوں کی جانب سے تباہ کردہ مذہبی عمارات کی تعمیرِ نو کے لیے ٹھوس اقدامات کر رہی ہے۔

پروگرام کا مقصد عسکریت پسندوں کو یہ پیغام دینا ہے کہ کے پی حکومت اقلیتوں کے ساتھ ہے اور عسکریت پسندوں کی جانب سے نقصان پہنچائی گئی ہر عبادت گاہ کو نئے سرے سے تعمیر کرے گی۔

کے پی کے وزیرِ اطلاعات مشتاق احمد غنی نے سینٹرل ایشیاء آن لائن کو بتایا، "صوبائی حکومت نے سکھوں، ہندوؤں اور عیسائیوں کی عبادت گاہوں کی تزئینِ نو کے لیے [آئندہ مالی سال میں] 10 ملین روپے (100،000 امریکی ڈالر) مختص کیے ہیں۔"

انہوں نے کہا، "ہم نے پہلے ہی عبادت گاہوں پر پولیس تعینات کر دی ہے، جس سے سیکیورٹی کی صورتحال میں بہت بہتری آئی ہے۔"

انہوں نے کہا، "حکومت پُرعزم ہے کہ املاک کو نقصان پہنچانے اور [عبادت کرنے والوں] کو ان کے مقدس مقامات پر جانے سے روکنے کی طالبان کی کوششوں کو قلع قمع کیا جائے گا۔"

انہوں نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ، مذہبی ہم آہنگی کا فروغ اور معیاراتِ زندگی کو بہتر بنانا ہے۔

غنی نے کہا، "اقلیتی برادریوں سے تعلق رکھنے والے اسکولوں کے بچوں کو وظائف، درسی کتب اور مفت وردیاں بھی مہیا کی جائیں گی۔"

انہوں نے کہا کہ کے پی حکومت نے مالی سال 2016-2015 میں شروع کیے گئے اقلیتوں کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کی تکمیل کے لیے آئندہ مالی سال میں رقوم مختص کی ہیں۔

غنی نے کہا، "بجٹ میں خصوصی طور پر اقلیتوں کے لیے جہیز، صحت کی سہولیات میں معاونت، رہائشی کالونیوں کی تعمیر، عبادت گاہوں اور اقلیتوں کے قبرستانوں کے گرد حفاظتی دیواروں کے لیے خصوصی مالی پیکیجز، کیلاش برادری کے لیے خصوصی پیکیج، اقلیتوں کے دینی مقامات کے لیے حفاظتی انتظامات، اور کرک میں مندر کی تعمیر شامل ہیں۔"

'طالبان نے اسلام کو بدنام کیا ہے'

وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقہ جات (فاٹا) کے سابق سیکریٹری دفاع، پشاور کے بریگیڈیئر (ر) محمود شاہ نے سینٹرل ایشیاء آن لائن کو بتایا، "طالبان جنگجو اقلیتوں کو خوفزدہ کرنے کے اپنے ایجنڈے کے جزو کے طور پر مندروں، گردواروں اور گرجا گھروں کو نشانہ بناتے رہے ہیں۔"

انہوں نے کہا، "پاکستان اقلیتوں کے لیے ایک مہمان نواز ملک ہے، اور صرف مٹھی بھر جنگجو اپنے مذموم ایجنڈے پر عمل کرنا چاہتے ہیں۔"

انہوں نے کہا، "حکومتی معاونت نے اقلیتوں کو عسکریت پسندوں کی دھمکیوں کی پرواہ نہ کرنے اور اپنی عبادات جاری رکھنے کا حوصلہ دیا ہے۔"

برسوں تک، تنگ نظر عسکریت پسندوں نے کے پی میں تمام ادیان کی عبادت گاہوں، بشمول پشاور میں ہندوؤں کے مندروں اور ضلع مانسہرہ میں ایک امام بارگاہ کو نشانہ بنایا ہے۔

پشاور کے ایک دینی عالم، اکرام اللہ خان نے کہا، "طالبان نے دینِ اسلام کو بدنام کیا ہے، جو امن، بھائی چارے اور انسانوں کے مابین اتصال کی تبلیغ کرتا ہے۔"

انہوں نے کہا مزارات اور کسی بھی دین کی عبادت گاہوں کو بموں سے اڑانا اسلام کو نقصان پہنچانا ہے۔

انہوں نے سینٹرل ایشیاء آن لائن کو بتایا، "ہمارے پیغمبر حضرت محمد ﷺ نے اپنے اُمتیوں کو دیگر ادیان کا احترام کرنے اور عبادت گزاروں کو تحفظ مہیا کرنے کی ہدایت کی۔ لیکن طالبان نے لوگوں کو ہلاک کرنے اور اقلیتوں کی مقدس عمارات کو تباہ کرنے کے لیے فساد کو اپنایا۔"

حکومتی معاونت نے اقلیتوں کو اعتماد بخشا ہے

کے پی وزیرِ اوقاف و دینی امور حبیب الرحمان نے سینٹرل ایشیاء آن لائن کو بتایا کہ عسکریت پسند اقلیتوں کو نشانہ بناتے ہیں، جو پاکستان کی اٹھارہ کروڑ آبادی کا تقریباً 3.7 فیصد ہیں، لیکن یہ برادریاں بلاخوف عبادت کرنا جاری رکھنے ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا، "حکومت نے اقلیتوں کے لیے خصوصی سیکیورٹی تعینات کی ہے تاکہ وہ بلا خوف اپنی عبادت گاہوں میں آ جا سکیں۔"

15،000 سے زائد سکھ اور 47،000 سے زائد ہندو کئی دہائیوں سے کے پی کے مختلف علاقوں -- بشمول پشاور، بونیر، مردان، نوشہرہ، سوات، لکی مروت اور ڈیرہ اسماعیل خان -- میں رہتے آ رہے ہیں اور ان کا طرزِ زندگی پشتونوں سے بہت زیادہ مختلف نہیں ہے۔

ہندو برادری اس وقت بہت خوش ہوئی تھی جب کے پی حکومت نے اپریل کے مہینے میں پشاور میں گورکناتھ مندر کو دوبارہ کھولا تھا جو کہ ملکیت کے ایک تنازعہ کی وجہ سے 60 برسوں تک بند رہا تھا۔

کُل پاکستان ہندو حقوق تحریک کے چیئرمین ہارون سربدیال نے کہا کہ وہ معاشرے میں مذہبی آزادی کو یقینی بنانے کے لیے کے پی حکومت کے عملی اقدامات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا، "ہم مزارات، مساجد، گرجا گھروں اور دیگر عبادت گاہوں کو نقصان پہنچانے پر عسکریت پسندوں کی پرزور مذمت کرتے ہیں۔"

ستمبر 2013 میں، پشاور میں آل سینٹس گرجا گھر میں دو خودکش بم دھماکوں میں خواتین اور بچوں سمیت تقریباً 100 افراد ہلاک ہوئے تھے، لیکن یہ تباہ کن حملہ عیسائیوں کو عبادت کرنے سے روکنے میں ناکام رہا۔

امرجیت سنگھ، جنہوں نے دو سال پہلے عسکریت پسندوں کی دھمکیوں کے بعد خیبر ایجنسی کو خیرباد کہہ دیا تھا، نے کہا کہ وہ اب پشاور میں رہ کر خوشی اور تحفظ محسوس کرتے ہیں۔

انہوں نے سینٹرل ایشیاء آن لائن کو بتایا، "لوگ بہت دوستانہ ہیں۔ گرجا گھروں میں مکمل تحفظ ہے، اور حکومت کی جانب سے بہتر تحفظ کی فراہمی کے بعد ہم باقاعدگی سے عبادت کرتے ہیں۔"

انہوں نے کہا، "عسکریت پسند فساد کے ساتھ اقلیتوں کو اکسانے کی کوشش کرتے رہے ہیں، لیکن ہم امن کی خاطر عدم تشدد اور بھائی چارے کی پالیسی پر عمل پیرا رہیں گے۔"

انہوں نے کہا، "دو سال قبل، عسکریت پسندوں کی دھمکیوں کی وجہ سے ہماری [سکھ برادری] کے بہت سے خاندانوں کے افراد بیرونِ ملک پناہ لینے کے بارے میں سنجیدگی سے غور کر رہے تھے، لیکن اب صورتحال یکسر تبدیل ہو چکی ہے اور انہوں نے ملک چھوڑنے کے اپنے ارادے ترک کر دیئے ہیں۔"

انہوں نے کہا، "حکومت ہماری مذہبی تہواروں کی کفالت کرتی رہی ہے اور ان میں شریک ہوتی رہی ہے، جو کہ ہمارے لوگوں میں تحفظ کا گہرا احساس پیدا کرتا ہے۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 0

تبصرہ

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

سنہ 2018 میں پاکستان کے لیے سب سے بڑا چیلنج کیا ہے؟

نتائج