|

سلامتی

قبائلی نوجوان پاکستانی فوج میں شامل ہونے کے خواہشمند

تجزیہ کاروں کا کہنا کہ عسکریت پسندی نے سماج کے تانے بانے کو تباہ کر دیا ہے اور نوجوان اس کے حل کا حصّہ بننا چاہتے ہیں۔

حنیف اللہ


ایف سی کے انسپکٹر جنرل اور میجر جنرل شاہین مظہر محمود 22 اپریل کو باجوڑ ایجنسی میں آرمی رنگروٹوں کو تقرر نامے دے رہے ہیں۔ [حنیف اللہ]

ایف سی کے انسپکٹر جنرل اور میجر جنرل شاہین مظہر محمود 22 اپریل کو باجوڑ ایجنسی میں آرمی رنگروٹوں کو تقرر نامے دے رہے ہیں۔ [حنیف اللہ]

امن و استحکام کے لیے شدید خواہش کا مظاہرہ کرتے ہوۓ، پاکستان کے قبائلی علاقے کے جوان پہلے سے کہیں زیادہ بڑی تعداد میں فوج شامل ہو رہے ہیں۔ یہ علاقے کبھی عسکریت پسندی اور تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی محفوظ پناہ گاہ ہوا کرتے تھے۔

وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات (فاٹا) کی باجوڑ ایجنسی کے 143 کے لگ بھگ نوجوانوں کو اپریل کے آخر میں سیکورٹی فورسز میں شامل ہونے کے تقرر نامے موصول ہوۓ۔

انہیں جلد ہی اپنے خطے اور اپنے وطن کی حفاظت کا موقع ملے گا۔

اگرچہ اصل اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں، تاہم گزشتہ سالوں میں فاٹا کے چند نوجوان ہی فوج میں شمولیت اختیار کرتے تھے۔

خار، باجوڑ ایجنسی کے رنگروٹ، سلیمان خان نے سینٹرل ایشیا آن لائن کو بتایا، "میرا پورا خاندان اور میں، فوج میں شامل ہونے پر خوش ہیں، کیونکہ اس سے مجھے اپنے ملک کے لئے عسکریت پسندوں کے خلاف لڑنے کا موقع ملے گا۔"

انہوں نے کہا کہ عسکریت پسندوں نے اپنے بم دھماکوں اور دہشت گردی سے فاٹا کو تباہ کر دیا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ قبائلی نوجوان شرپسندوں کو شکست دینے کی فوج میں شمولیت کے انتہائی آرزو مند ہیں۔

فاٹا سے ایک اور رنگروٹ، 22 سالہ سیدا وہاب نے کہا کہ ان کی خواہش تھی کہ وہ اپنی مادر وطن کا دفاع کریں۔

انہوں نے کہا، "مجھے خوشی ہے کہ میرا خواب سچا ثابت ہوا۔"

فرنٹیئر کور (ایف سی) کے انسپکٹر جنرل اور میجر جنرل شاہین مظہر محمود نے سینٹرل ایشیا آن لائن کو بتایا، "فوج کی اعلیٰ کمان فاٹا کے عوام کو فوج میں شامل ہونے کے لیے ہر ممکن مواقع فراہم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ مستقبل میں باجوڑ ایجنسی کے مزید لوگوں کو ایسا کرنے کا موقع دیا جائے گا۔"

انہوں نے کہا، "ایجنسی میں امن بحال کردیا گیا ہے اور یہاں کھیل اور کاروباری سرگرمیاں زوروں پر ہیں [...] باجوڑ کے عوام اور فوجیوں اور فوج کے افسران کی قربانیوں کی وجہ سے یہ ممکن ہوا ہے۔

پاکستانی فوج میں قبائلی نوجوانوں کی بھرتی

ٹی ٹی پی 2006 میں باجوڑ ایجنسی میں ظہور میں آئی تھی اور اس نے ان گنت مظالم کا ارتکاب کیا تھا۔ قبائلی عمائدین نے کہا، "لیکن2008 میں پاکستانی فوج نے مکمل مقامی حمایت کے ساتھ ان کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا۔"

حتیٰ کہ بعض علاقوں میں قبائلی عوام نے ٹی ٹی پی سے لڑنے کے لیے مقامی لشکر (ملیشیا) تک بناۓ۔

کیونکہ بہت سے نوجوان فوج سمیت، سیکورٹی فورسز میں شامل ہونا چاہتے ہیں، پالیسی سازوں نے فاٹا کے نوجوانوں کی بھرتی کے لیے خصوصی مراعات دی ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال، باجوڑ ایجنسی کے 180 رہائشیوں نے فوج میں شمولیت اختیارکی۔ اس سال اب تک باجوڑ کے 143 رہائشیوں نے ایف سی میں شمولیت اختیار کی ہے اور دوسرے دو نے پاکستان ملٹری اکیڈمی (پی ایم اے) میں محنت طلب 137واں لانگ کورس مکمل کرنے کے بعد کمیشنڈ افسران کے طور پر فوج میں شمولیت اختیار کی۔

دفاعی تجزیہ کار اور اسلام آباد کے پالیسی اسٹڈیز انسٹی ٹیوٹ میں سینئر ایسوسی ایٹ، سید نذیر نے کہا کہ فوج میں فاٹا کے زیادہ نوجوانوں کا ہونا ایک خوش آئند اقدام ہے۔

انہوں نے فوج پر زور دیا کہ وہ فاٹا میں اسکول اور اسپتال قائم کرے۔

انہوں نے سینٹرل ایشیا آن لائن کو بتایا، "فاٹا کے نوجوان بہتر ملازمت اور تعلیم کے مواقع کے مستحق ہیں، کیونکہ اس علاقے کے لوگ مخالف فورسز کے خلاف ملک کا دفاع کر نے کے لیے ہمیشہ سب سے آگے رہے ہیں۔"

باجوڑ کے قبائلی عمائدین سیکورٹی فورسز کی حمایت کرتے ہیں

باجوڑ کے قبائلی رہنماء اور ٹی ٹی پی کے بے لاگ مخالف، مولانا گلداد خان نے کہا، "ہمارے ملک کو ہمیشہ سیکورٹی فورسز نے تحفظ فراہم کیا ہے اور ہمارے نوجوانوں کو پاکستانی فورسز کا حصّہ بننے کی ضرورت ہے تاکہ وہ اچھی طرح سے اپنی قوم کی خدمت کر سکیں۔"

انہوں نے سینٹرل ایشیا آن لائن کو بتایا، "عسکریت پسندوں نے ہمارے تعلیمی اداروں، ثقافت اور مذہبی نظریے کو تباہ کر دیا ہے، اس لیے ہمارے پاس فوج کے ساتھ مل کر ان کے خلاف لڑنے کے سوا اور کوئی چارہ نہیں رہ گیا ہے۔"

ایک اور قبائلی بزرگ، خالد حبیب نے کہا، "سیکورٹی فورسز اور حکومت کے حق میں نوجوانوں کو متحرک کرنے کا واحد طریقہ ان کو سیکیورٹی فورسز کے اندر مواقع فراہم کرنا ہے۔ اس طرح وہ فورسز کے نظریے سے آگاہ ہو جاتے ہیں اور انکو روزگار بھی مل جاتا ہے۔"

باجوڑ ایجنسی کے ایک بزرگ، ملِک بشاک خان نے حالیہ برسوں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں میں فوج اور مقامی برادری کی طرف سے دی گئی بہت سی قربانیوں اور اس کے ساتھ ساتھ فاٹا میں امن کی بحالی کی مشترکہ کوششوں کی طرف اشارہ کیا۔

انہوں نے سینٹرل ایشیا آن لائن کو بتایا، "ہم یہاں امن کی بحالی کی کے لیے فوج کی کوششوں کی قدر کرتے ہیں۔ ہم فاٹا کے رہائشیوں کو بھی سراہتے ہیں جو سیکورٹی فورسز میں شمولیت اختیار کر رہے ہیں۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 0

تبصرہ 💬

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

1 تبصرے 💬

💬

shabir rahman | 08-05-2016

ہمیں پاک فوج سے پیار ہے


انتخاب

کیا نگران حکومت 25 جولائی کو شیڈول کردہ عام انتخابات کو صاف اور شفاف انداز میں کروانے کے قابل ہو گی؟

نتائج