2016-06-28 | معیشت

پاکستان، تاجکستان تعاون بڑھانے کے لئے پُرعزم

جاوید محمود

ان مذاکرات میں منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف جنگ سمیت متعدد معاہدے کیے گئے۔


پاکستانی اور تاجک حکام تجارتی، اقتصادی اور سائنسی تکنیکی تعاون پر پاکستان-تاجکستان مشترکہ کمیشن کے 16-15 جون کو اسلام آباد میں ہونے والے 5 ویں جلاس کے دوران صلاح مشورہ کر رہے ہیں۔ [جاوید محمود]
پاکستانی اور تاجک حکام تجارتی، اقتصادی اور سائنسی تکنیکی تعاون پر پاکستان-تاجکستان مشترکہ کمیشن کے 16-15 جون کو اسلام آباد میں ہونے والے 5 ویں جلاس کے دوران صلاح مشورہ کر رہے ہیں۔ [جاوید محمود]
پاکستانی اور تاجک حکام تجارتی، اقتصادی اور سائنسی تکنیکی تعاون پر پاکستان-تاجکستان مشترکہ کمیشن کے 16-15 جون کو اسلام آباد میں ہونے والے 5 ویں جلاس کے دوران صلاح مشورہ کر رہے ہیں۔ [جاوید محمود]

ان مذاکرات میں منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف جنگ سمیت متعدد معاہدے کیے گئے۔

اسلام آباد -- حکام نے کہا ہے کہ پاکستان اور تاجکستان کاروبار اور تجارت کو بڑھانے اور سرحد پار منشیات اور نشہ آور ادوئیات کی اسمگلنگ جیسے جرائم کے خلاف جدوجہد کے لیے اہم اقدامات اٹھا رہے ہیں۔

تجارتی، اقتصادی اور سائنسی-تکنیکی تعاون پر پاکستان-تاجکستان مشترکہ کمیشن کا 5 واں اجلاس 16-15 جون کو اسلام آباد میں منعقد ہوا، جس دوران فریقین نے متعدد ایسے فیصلوں پر اتفاق کیا جن کا مقصد باہمی تعلقات کو مضبوط بنانا ہے۔

اہم معاہدوں میں کاروباری شراکت داری میں اضافہ، بینکاری کی نگرانی، توانائی، ذرائع نقل و حمل، زراعت اور اقتصادی اور سفارتی تعلقات کے ساتھ ساتھ منشیات کی اسمگلنگ کی لعنت کے خاتمے کے لئے اقدامات شامل ہیں۔

پانی و بجلی کے پاکستانی وزیر، خواجہ محمد آصف اور تاجک توانائی اور آبی وسائل کے وزیر، عثمان علی عثمان زادہ نے کانفرنس کی صدارت کی۔

پاکستانی وزارت خزانہ کے ترجمان، سعید جاوید نے سینٹرل ایشیا آن لائن کو بتایا کہ حکام کو توقع ہے کہ کمیشن کا آئندہ اجلاس اکتوبر میں منعقد کیا جاۓ گا، جس دوران وہ اسمگلنگ کو روکنے کے لئے خصوصی اقدامات تجویز کریں گے۔

صنعت و تجارت کے کراچی چیمبر کے سابق صدر، مجید عزیز نے سینٹرل ایشیا آن لائن کو بتایا، "یہ اشد ضروری ہے کہ پاکستان اور تاجکستان مذہبی بنیاد پرست عناصر، انسانی اسمگلروں، منشیات کے تاجروں اور ان کے سہولت کاروں کی سرحد کے آر پار نقل و حرکت جیسے مسائل سے نمٹنے کے لئے اقدامات کریں۔"

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو چاہیئے کہ وہ اپنے ہمسایہ ممالک پر دہشت گردوں اور اسمگلروں کے ساتھ سختی سے نمٹنے کی اہمیت کو اجاگر کرے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ان خدشات کا سامنا کرنے کے لیے اس علاقے میں سیکورٹی کا ایک مشترکہ نظام قائم کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمسایہ ممالک اور علاقائی شراکت داروں کے درمیان مضبوط تعلقات کی تعمیر سے سلامتی کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی اور سب کی اقتصادی خوشحالی کو فروغ ملے گا۔

اتحادی، تجارتی شراکت دار بنانا

مجید نے کہا کہ وسطی ایشیائی ممالک، خاص طور پر تاجکستان کے ساتھ دوستی کے فوائد قبول کر کے پاکستان نے صحیح سمت میں قدم اٹھایا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور وسطی ایشیا کے ممالک کے درمیان تجارت میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے اور یہ بات بہت اہم ہے باہمی تعلقات پوری طرح واضح اور بلا ابہام ہوں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اُن ممکنہ اتحادیوں کو کھونے کا متحمل نہیں ہو سکتا جو تجارت بڑھانا اور پاکستان کی سفارتی حمایت کرنا چاہتے ہیں۔

وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات (فاٹا) میں سیکورٹی کے ایک سابق سیکریٹری، پشاور کے بریگیڈیئر (ریٹائرڈ) محمود شاہ نے سینٹرل ایشیا آن لائن کو بتایا، "پاکستان اور تاجکستان کو منشیات اور نشہ آور اشیا کی اسمگلنگ کی روک تھام کے لئے سیکیورٹی سخت کرنے کی ضرورت ہے۔ ایسا کرنے سے دہشت گردی اور انتہا پسندی کی حوصلہ شکنی ہو گی۔"

انہوں نے کہا کہ سیکورٹی کو مضبوط کرنے اور ثقافتی اور اقتصادی تعاون کو بڑھانے کے لئے اِن پڑوسیوں کو تعاون کی نئی راہیں دریافت کرنی چاہیئِں۔

پاکستان میں بجلی کی دائمی قلت کا ذکر کرتے ہوۓ انہوں نے کہا کہ اس کی ایک مثال تاجکستان سے بجلی اور قدرتی گیس کی خریداری ہو گی۔

اجلاس کی تجاویز کا مسودہ

15-16 جون کو اسلام آباد کانفرنس میں کیے گئے فیصلوں میں مندرجہ ذیل شامل ہیں:

-- اس اکتوبر دوشنبہ میں ایک مشترکہ بزنس کونسل منعقد کرنے کا معاہدہ؛

-- اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور نیشنل بینک آف تاجکستان کے درمیان تعاون کی نگرانی پر، مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط کرنے کا معاہدہ؛

-- پاکستان کی طرف سے تاجکستان کی اس درخواست پر غور کرنے پر اتفاق کہ تاجکستان کو ٹریفک ان ٹرانزٹ کے چار ملکی سمجھوتے میں شامل کیا جاۓ گا۔ (اس سمجھوتے میں شریک تین ممالک پاکستان، قازقستان اور کرغستان ہیں)؛

-- سنٹرل ایشیا جنوبی ایشیا الیکٹرسٹی ٹرانسمیشن اینڈ ٹریڈ پراجیکٹ (کاسا- 1000) پر جلد از جلد تعمیر شروع کرنے کا معاہدہ؛

فریقین نے کاسا 1000 کے علاوہ، تاجکستان سے پاکستان کو 1،000 میگاواٹ بجلی کی برآمد میں دلچسپی کا اظہار کیا۔

اس سے ساتھ ساتھ دونوں ممالک نے تاجکستان میں تیل اور گیس دریافت کرنے کے مشترکہ منصوبے بنانے اور کپاس اور اون کی پروسیسنگ جیسے زرعی سرگرمیوں میں تعاون پر اتفاق کیا۔

انہوں نے منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف مشترکہ جنگ میں اہم مرکزی عہدیداروں کا تقرر کرنے پر بھی اتفاق کیا۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 0

تبصرہ

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

سنہ 2018 میں پاکستان کے لیے سب سے بڑا چیلنج کیا ہے؟

نتائج