|

کاروبار

کے پی، فاٹا کے نوجوانوں کی پیشہ ورانہ و تکنیکی تربیت

حکام کا کہنا ہے کہ مہارتوں میں اضافے کے پروگرام نوجوانوں کو عسکریت پسندی اختیار کرنے سے روکتے ہیں۔

سید عنصر عبّاس


مئی میں مالاکنڈ میں ٹی یو ایس ڈی ای سی کا ایک زیرِ تربیت ویلڈنگ کی مشق کر رہا ہے۔ [سید عنصر عبّاس]

مئی میں مالاکنڈ میں ٹی یو ایس ڈی ای سی کا ایک زیرِ تربیت ویلڈنگ کی مشق کر رہا ہے۔ [سید عنصر عبّاس]

پشاور — خیبرپختونخواہ (کےپی) اور وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقہ جات (فاٹا) میں آمدنی کی صلاحیت میں اضافہ اور انسدادِ دہشتگردی کے مقصد سے شروع کیے گئے مفت تکنیکی و پیشہ ورانہ تربیتی پروگرام میں ہزاروں نوجوان شرکت کر رہے ہیں۔

حکام کے مطابق، پیشہ ورانہ مہارتوں میں اضافہ شدت پسندوں کی بھرتیوں کی انسداد کا ایک عمدہ آلہ ہے اور اس سے زد پذیر نوجوانوں کو اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے میں مدد ملتی ہے۔

پاکستان کی وزارتِ صنعت و پیداوار کے تحت کام کرنے والے ٹیکنالوجی اپ گریڈیشن اینڈ سکل ڈیویلپمنٹ کوآپریشن (ٹی یو ایس ڈی ای سی) نے نوجوان پاکستانیوں کو تکنیکی و پیشہ ورانہ تربیت فراہم کرنے کے لیے یورپی یونین کی مالی معاونت سے 2011 میں ایک پروگرام کا آغاز کیا۔

کے پی اور فاٹا کے لیے ٹی یو ایس ڈی ای سی کے پراجیکٹ مینیجر فیض محمّد نے سنٹرل ایشیا آن لائن سے بات کرتے ہوئے کہا، ”مہارتوں میں اضافہ بے یارومددگار خاندانوں کے لیے آسودہ حالی کا سبب بنتا ہے۔ ہم مستحق نوجوانوں کو مختلف مہارتوں سے لیس کرتے ہیں تاکہ وہ ایک باعزت طریقے سے اپنے خاندانوں کے لیے معاش حاصل کر سکیں۔“

ملازمتیں پیدا کرنے سے انسدادِ دہشتگردی

فیض نے کہا، ”ہماری کاوشیں” بے ہنر نوجوانوں کو ہنرمند کارکن بننے کے قابل بنا رہی ہیں“، انہوں نے مزید کہا کہ ٹی یو ایس ڈی ای سی نہ صرف ضرورت مند نوجوانوں کو تربیت فراہم کرتی ہے بلکہ کورس مکمل ہونے پر روزگار کے مواقع کو بھی یقینی بناتی ہے۔

”ہم نے کے پی میں 32 اور فاٹا میں چھ تربیتی اور پیشہ ورانہ مراکز سے معاہدے کیے ہیں، جہاں نوجوانوں کو 50 مختلف مہارتوں کی مفت تربیت دی جاتی ہے۔“

فیض نے کہا کہ مرد ویلڈنگ، لکڑی کے کام، برقی آلات کی مرمت، سلائی، برقی موٹر مرمت اور دیگر شعبوں میں تربیت حاصل کر سکتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ خواتین فیشن ڈیزائن، میک اپ ایپلیکیشنز، فنِ طباخی اور دیگر شعبہ جات میں کورس لے سکتی ہیں۔

فیض نے کہا کہ معاشی تبدیلیوں کی عکاسی کرنے والے نئے کورس بھی ممکنہ طور پر آ سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا، ”ٹی یو ایس ڈی ای سی منڈی کی طلب کے مطابق نئی مہارتوں میں تربیت فراہم کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ اس میں بجلی کی [مسلسل] قلت کی وجہ سے سولر پینل کی تنصیب کے کورس شامل ہیں۔“

انہوں نے کہا، نوجوانوں کو مہارتیں سکھانے سے ”وہ مفید سرگرمیوں میں مشغول بھی رہتے ہیں۔“

انہوں نے مزید کہا، ”مہارتوں اور اچھی ملازمت کا حامل کوئی بھی شخص دہشتگردی کی جانب نہیں جائے گا۔“

فیض نے کہا، ”ٹی یو ایس ڈی ای سی تربیت مکمل کر کے اپنا کاروبار شروع کرنے والوں کو 20,000 تا 70,000 روپے (200 تا 700 امریکی ڈالر) بلا سود قرض کی بھی پیشکش کرتی ہے۔ ایک بھی ایسا واقعہ نہیں کہ کوئی اپنا قرض بروقت واپس کرنے میں ناکام رہا ہو۔“

اعلیٰ معیاری تربیت کی یقین دہانی

ٹی یو ایس ڈی ای سی نے 2011 سے اب تک یورپی یونین کی مالی معاونت سے تربیتی سیشنز کا اہتمام کیا ہے۔ ٹی یو ایس ڈی ایس سی کی ترجمان زینت بی بی نے سنٹرل ایشیا آن لائن سے بات کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دسمبر سے اب تک تین سیشنز میں 6,324 نوجوانوں کو تعلیم دی گئی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ٹی یو ایس ڈی ایس سی 2016 کے اختتام تک 12,000 نوجوانوں کو تربیت فراہم کرنے کی راہ پر گامزن ہے۔

انہوں نے کہا کہ 15 سے 35 برس کی عمر کا ہر شخص ٹی یو ایس ڈی ای سی کی تربیت کا اہل ہے، انہوں نے مزید کہا کہ تربیت کا مئی میں شروع ہونے والے چوتھے مرحلہ کا اختتام اکتوبر میں طے ہے۔ انہوں نے کہا کہ چوتھے مرحلہ میں ”3,450 مزید نوجوانوں کو تکنیکی تربیت فراہم کی جائے گی۔“

بی بی نے اس منصوبے کی کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے کمپنی کے پلان کی وضاحت کی۔

انہوں نے مزید کہا، ”ہم متعدد این جی اوز کے ذریعے ۔۔۔ تکنیکی تعلیم کے فوائد اور مالی منفعت کے بارے میں ۔۔۔ کے پی اور فاٹا کے دورافتادہ علاقوں میں آگاہی پیدا کرتے ہیں۔“

انہوں نے کہا، ”ہم مختلف تکنیکی تربیتی پروگرامز کے لیے مناسب اور مستحق امیدواران کو منتخب کرتے ہیں۔ ہم انہیں مختلف تربیتی مراکز میں بھیجتے ہیں۔“

نہوں نے کہا، ”ٹی یو ایس ڈی ای سی کی ٹیمیں تربیت کے معیار کی نگرانی کرتی ہیں۔ ہم کورس مکمل ہونے پر نوجوانوں کو دورانِ ملازمت تربیت کے مواقع بھی فراہم کرتے ہیں۔ ہماری نگرانی ٹیمیں اس امر کو یقینی بنانے کے لیے مختلف صنعتی اداروں اور ورکشاپس کا دورہ کرتی ہیں کہ ان کے پاس تربیت یافتہ نوجوانوں کے لیے ملازمتیں ہوں۔“

آمدنی کےمواقعوں میں اضافہ

ووکیشنل اسکولوں کے ڈائریکٹرز نے بے روزگار نوجوانوں کوہنرمند مزدوروں میں بدلنے پر ٹسڈیک کی تعریف کی۔

"کچھ طلبا [ہمارے] کالج تک سفر کے اخراجات برداشت نہیں کرسکتے تھے،" امپیریل کالج آف ٹکنالوجی، حویلیاں، ہزارہ ڈویژن کے پرنسپل طاہر قریشی نے سنٹرل ایشیا آن لائن کو بتایا۔ "ٹسڈیک کا شکریہ، وہ سفری اخراجات کے لئے 1,000 روپیہ (10 ڈالر) ماہانہ حاصل کرتے ہیں۔"

"والدین اپنے بیٹوں کو فنی تعلیم دینے پر ہمارا شکریہ ادا کرنے کے لئے یہاں آتے ہیں،" انہوں نے بتایا۔ "یہ تربیت یافتہ طلبا اپنی آمدنی میں والدین کو شریک کرتے ہیں۔"

حیات آباد، پشاور میں ووکیشنل اسکول، ہنیز اکیڈمی کی سربراہ نیلوفر سامی متفق ہیں۔

نیلوفر نے سنٹرل ایشیا آن لائن کو بتایا، ضرورت مند خواتین جو ہمارے ادارے کی فیس ادا نہیں کرسکتی ہیں ٹسڈیک کی بدولت میک اپ، کمپیوٹر اسکلز، کشیدہ کاری وغیرہ کے مختلف کورسز میں شرکت کرنے کے قابل ہیں۔

خواتین تربیت کنندہ یہاں آکر بہت مطمئن ہیں اور مختلف ہنر سیکھ رہی ہیں، انہوں نے بتاتے ہوئے مزید کہا کہ فی الوقت اسکول میں زیرتعلیم 25 خواتین پہلے ہی پیسے کما رہی ہیں۔

ان تربیت کنندگان میں سے ایک، پشاور کی تسلیم، اب ایک فیشن ڈیزائنر ہے۔

"جب میری شادی ہوئی میں آٹھویں جماعت میں تھی۔" انہوں نے سنٹرل ایشیا آن لائن کو بتایا۔ "شادی کے بعد میں نے اعلیٰ ثانوی اسکول مکمل کیا۔ میں نے ٹسڈیک کی وساطت سے داخلہ لیا اور ملبوسات ڈیزائننگ کا ایک کورس مکمل کیا۔"

"اب میں فی لباس 350 روپیہ [3.50 ڈالر] اجرت لیتی ہوں اور گھریلو اخراجات پورے کرنے میں اپنے شوہر کی مدد کرتی ہوں،" انہوں نے بتایا۔ "میں خوش ہوں کہ ہم باآسانی اپنے تین بچوں کی اسکول فیس برداشت کر سکتے ہیں۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 0

تبصرہ 💬

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

1 تبصرے 💬

💬

shabir rahman | 08-05-2016

ہمیں پی ٹی آئی سے پیار ہے


انتخاب

کیا آپ نئی حکومت کی جانب سے ہندوستان کے ساتھ امن کی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں؟

نتائج