2016-06-14 | دہشتگردی

کرغیزستان نے حفاظتی اقدامات سخت کر دیئے

از باکیت ابرائیموف

یہ اقدام اکتوبے، قازقستان میں 5 جون کے دہشت گرد حملے کے ردِ عمل میں کیا گیا ہے۔


کرغیز دفاعی اہلکار 23 مئی کو اوش میں انتہاپسندی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عوام کے ساتھ تعاون کے بارے میں ایک گفتگو میں شریک ہیں۔ [باکیت ابرائیموف کی حاصل کردہ ڈی یو ایم کے کی فوٹو]
کرغیز دفاعی اہلکار 23 مئی کو اوش میں انتہاپسندی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عوام کے ساتھ تعاون کے بارے میں ایک گفتگو میں شریک ہیں۔ [باکیت ابرائیموف کی حاصل کردہ ڈی یو ایم کے کی فوٹو]
کرغیز دفاعی اہلکار 23 مئی کو اوش میں انتہاپسندی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عوام کے ساتھ تعاون کے بارے میں ایک گفتگو میں شریک ہیں۔ [باکیت ابرائیموف کی حاصل کردہ ڈی یو ایم کے کی فوٹو]

یہ اقدام اکتوبے، قازقستان میں 5 جون کے دہشت گرد حملے کے ردِ عمل میں کیا گیا ہے۔

بشکیک - کرغیز حکام اکتوبے، قازقستان میں 5 جون کو ہونے والے دہشت گرد حملے کے ردِ عمل میں حفاظی اقدامات سخت کر رہے ہیں۔

اس روز، دہشت گردوں کے ایک گروہ نے اسلحے کی دو دکانوں اور ایک فوجی چھاؤنی پر حملوں میں سات قازقستانیوں کو ہلاک کر دیا تھا۔ اگلے ہفتے حکام کا کہنا تھا کہ انہوں نے تمام ملزمان کو ہلاک کر دیا یا گرفتار کر لیا ہے۔

وزارتِ داخلہ (ایم وی ڈی) نے 6 جون کو ایک بیان میں کہا کہ کرغیز حکومت حساس مقامات جیسے کہ ہائیڈرو پاور اسٹیشنوں، فوجی چھاؤنیوں اور ہوائی اڈوں پر حفاظتی اقدامات کو سخت کر رہی ہے۔ پولیس کو انتہائی چوکنا کر دیا گیا ہے۔

حکام انتہاپسندوں کے ہمدردوں کو تلاش کرنے کی کوششوں میں اضافہ کر رہے ہیں اور ایسے افراد کی نگرانی کر رہے ہیں جو منظم جرائم اور انتہاپسند گروہوں کے ساتھ منسلک افراد کی نگرانی کی فہرست میں ہیں۔

ایم وی ڈی نے کہا، "ہم شہروں ۔۔۔ ہوائی اڈوں اور دیگر مقامات جہاں لوگ بڑی تعداد میں جمع ہوتے ہیں ، میں بڑے پیمانے پر کارروائیاں کر رہے ہیں۔

عوام-پولیس کا تعاون ضروری ہے

بین الاقوامی این جی او سرچ فار کامن گراؤنڈ کے کرغیز ملکی ڈائریکٹر کینیش بیگ سائنزروف نے سینٹرل ایشیاء آن لائن کو بتایا کہ حفاظت صرف پولیس ہی کا نہیں بلکہ عوام کا بھی فرض ہے۔

انہوں نے کہا، "لازمی ہے کہ ہمارا [پولیس کا] عوام کے ساتھ قریبی تعاون ہو یہ یقینی بنانے کے لیے کہ ہر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ اس کی اپنی جان اور اس کے عزیزوں، ہمسایوں اور دوستوں کی جانوں کا انحصار ہر شہری پر ہے۔"

انتہاپسند گروہوں کو لعن طعن کرنا صرف ان کے اثرورسوخ کو بڑھائے گا کا اضافہ کرتے ہوئے سائنزروف نے کہا کہ مظاہرے کی بجائے مکالمہ اس چیز کا جواب ہے۔

انہوں نے کہا، "صورتحال کے علاج کے لیے ہمیں مکالمے کی ضرورت ہے۔ گزشتہ تین برسوں کے دوران، ہم نے انتہاپسندی کا مقابلہ کرنے کے بارے میں بہت سی تربیتی نشستیں منعقد کروائی ہیں۔ شرکاء میں دفاعی اور انٹیلی جنس ایجنسی کے اہلکار شامل تھے، جنہوں نے عوام کے ساتھ قریبی تعاون کے بارے میں سفارشات کو سنا۔"

بشکیک کے ایک پولیٹیکل سائنسدان اور کرغیز کلب فار ریجنل ایکسپرٹس کے شریک چیئرمین، اگور شستاکوف نے سینٹرل ایشیاء آن لائن کو بتایا کہ اکتوبے میں خونریزی کے بعد کرغیزستان میں ایک دفاعی کارروائی مکمل طور پر قابلِ فہم ہے۔

انہوں نے کہا، "یہ کافی حد تک ممکن ہے کہ [انتہاپسند] کرغیزستان میں بھی دہشت گردی کی کارروائیاں کرنا چاہیں گے۔ کرغیز حکام پر لازم ہے کہ کسی بھی پیش رفت کے لیے تیار رہیں۔"

شستاکوف نے قازقستانی دفاعی قوتوں اور علاقائی تنظیموں کے ساتھ مزید کرغیز تعاون کا مشورہ دیا۔

مضبوط سول سوسائٹی

شستاکوف نے کہا کہ کرغیزستان ایک مضبوط سول سوسائٹی سے مستفید ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا، "ہمارے ہاں 10،000 سے زائد فعال این جی اوز ہیں، اور ایم وی ڈی کی عوام کی نگرانی کی اپنی ایک کونسل ہے۔ تعاون کے لیے وسائل موجود ہیں۔"

اوش کی ایک وکیل، زالینا عبدالحقوفا نے سینٹرل ایشیاء آن لائن کو بتایا کہ حفاظتی اقدامات مستقل ہونے چاہیئیں، اتار چڑھاؤ سے مشروط نہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گرد غیر مستقل مزاجی کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔

انہوں نے کہا، "اول، ہمیں وزارتِ دفاع، جی کے این بی [سٹیٹ نیشنل سیکیورٹی کمیٹی] اور دیگر دفاعی ایجنسیوں میں ۔۔۔ سرمائے کے استعمال کی نگرانی اور معمول کی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ دوم، ہمیں عوام میں فلاحی کاموں کی ضرورت ہے۔"

انہوں نے کہا کہ اسلام کو مسخ کرنا انتہاپسندی پر منتج ہوتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا، "[اسلام کے] تمام تصورات کی مقامی زبانوں میں وضاحت اور ترجمہ کرنے کی ضرورت ہے۔"

بشکیک کے ایک رہائشی، پولیٹیکل سائنسدان نورلان نعمتوف نے سینٹرل ایشیاء آن لائن کو بتایا، "ہمیں مصنوعی اسلامی گروہوں کو قابو کرنے کی ضرورت ہے۔ بصورتِ دیگر آپ کے ساتھ وہی ہو گا جو پاکستان میں وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقہ جات میں ہوا، جس پر کسی کا قابو نہیں ہے۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 0

تبصرہ

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

سنہ 2018 میں پاکستان کے لیے سب سے بڑا چیلنج کیا ہے؟

نتائج