|

رواداری

ورلڈ ریلیف پاکستان میں قیامِ امن اور بین المذاہب ہم آہنگی کی تعلیم دے رہی ہے

ماہرین قدرتی آفات اور دہشت گردی کے متاثرین کے لیے تربیتی نشستیں منعقد کروا رہے ہیں۔

از محمد شکیل


ورلڈ ریلیف نے 19 مئی کو پشاور میں قیامِ امن کی ایک تربیتی نشست منعقد کروائی۔ یہ تنظیم علاقے کے لوگوں کو سکھاتی ہے کہ تنازعات سے کیسے بچنا اور بین المذاہب ہم آہنگی کو کیسے فروغ دینا ہے۔ [محمد شکیل]

ورلڈ ریلیف نے 19 مئی کو پشاور میں قیامِ امن کی ایک تربیتی نشست منعقد کروائی۔ یہ تنظیم علاقے کے لوگوں کو سکھاتی ہے کہ تنازعات سے کیسے بچنا اور بین المذاہب ہم آہنگی کو کیسے فروغ دینا ہے۔ [محمد شکیل]

پشاور - ایک جرمن این جی او کے حکام نے سینٹرل ایشیاء آن لائن کو بتایا کہ این جی او پاکستان میں مختلف مذہبی برادریوں کو سکھا رہی ہے کہ تنازعات سے کیسے بچنا ہے۔

ورلڈ ریلیف (ڈبلیو آر) ڈوشلینڈ قیامِ امن اور آفات کے بعد کے منظر ناموں کے ساتھ نمٹنا سکھاتی ہے۔

ڈبلیو آر کے پراجیکٹ تعمیلی مینیجر، پشاور کے نئیر مشتاق نے سینٹرل ایشیاء آن لائن کو بتایا، "ڈبلیو آر مقامی آبادیوں کی شراکت داری کے ساتھ ۔۔۔ حساس ترین لوگوں کی تبدیلی کی صورت گری کرتی ہے۔"

انہوں نے کہا کہ منصوبے کا مقصد معاشرے کے حساس ترین عناصر کی خدمت کے لیے مذہبی برادریوں کی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ڈبلیو آر پانی اور نکاسیٔ آب کی خدمات، حفظانِ صحت، پناہ، ملازمت، صحت کی دیکھ بھال اور معاشرے کے دیگر حصوں کو بہتر بنانے کے لیے کام کرتی ہے۔

'کے پی میں امن کے لیے مذہبی دوست'

ڈبلیو آر نے 20-19 مئی کو پشاور میں اپنے "کے پی [خیبر پختونخوا] میں امن کے لیے مذہبی دوست" پروگرام کے تحت ایک تربیتی نشست کا اہتمام کیا۔ پروگرام پاکستان کی بہت سی مذہبی برادریوں کے مابین اعتماد کو پروان چڑھانے کا متلاشی ہے۔

ریسکیو 1122، سنہ 2010 میں قائم ہونے والے کے پی کے ایک ہنگامی حالات میں امداد مہیا کرنے والے ادارے، نے تربیت کروائی۔

مشتاق نے کہا، "نشست کا مقصد فساد ہونے سے پہلے ممکنہ تنازعہ کو ختم کرنے ۔۔۔ کے لیے ایک بہتر بین العقائد حلقہ بنانا تھا۔"

تمام گروہوں کی بقاء اور بین المذاہب ہم آہنگی کے لیے باہمی سمجھوتہ درکار ہے کا اضافہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا، "ہم [برادریوں کے] مابین ربط کو مزید مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔"

انہوں نے مزید کہا کہ وہ اقلیتیں جنہون نے پاکستان میں رہنے کا انتخاب کیا تھا انہیں اعتماد حاصل کرنے اور قیامِ امن کے لیے دیگر برادریوں کے ساتھ روابط بنانے کے لیے ایک موقعے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ 20-19 مئی کو منعقد ہونے والی تربیتی نشست جیسی نشستوں میں، اقلیتی گروہوں اور مسلمان برادری کے ارکان خود کو درپیش مسائل پر تبادلۂ خیال کرنے کے لیے مل بیٹھتے ہیں۔

ڈبلیو آر کے قیامِ امن کے افسر، پشاور کے محمد جہانگیر نے سینٹرل ایشیاء آن لائن کو بتایا کہ ایسی نشستیں روبرو ملاقات کا ایک گرانقدر موقع مہیا کرتی ہیں۔

قیامِ امن میں خواتین کو شامل کرنا

جہانگیر نے کہا کہ ڈبلیو آر بنوں، سوات، مردان اور ڈیرہ اسماعیل خان، کے پی میں مذہبی اقلیتوں اور اسلامی برادری سے تعلق رکھنے والی خواتین کے لیے بھی تربیتی نشستوں کا اہتمام کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ڈبلیو آر کو اسے دیکھنے کی ترغیب دی گئی تھی جو قیامِ امن میں شامل ہونا چاہتی ہیں، جہاں سماجی تانے بانے میں خواتین کی حیثیت کی وجہ سے وہ مردوں کے مقابلے میں غالباً ایک زیادہ بڑا کردار ادا کر سکتی ہیں۔

انہوں نے کہا، "ہم چاہتے ہیں کہ خواتین آگے آئیں اور قیامِ امن میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کریں۔"

پشاور کے ایک مقامی سماجی کارکن اور امن کمیٹی کے رکن، بابا گرپال سنگھ نے سینٹرل ایشیاء آن لائن کو بتایا، "معاشرہ ایک ڈھانچے کی طرح ہے جو اپنی طاقت مرکزی عناصر کو جوڑ کر رکھنے والی قوت سے لیتا ہے۔ معاشرے کے لیے لازمی ہے کہ اختلافات کو مٹائے ۔۔۔ اور رواداری پیدا کرے۔"

انہوں نے کہا، "ہم، جو اکثر خاندانون میں امن قائم کرنے والے کے طور پر کام کرتے ہیں، ہمیں روزمرہ زندگی میں بھی ویسا ہی کردار ادا کرنا چاہیئے۔"

دہشت گردی کے مقابلے کے لیے کوششوں کو مجتمع کرنا

سنگھ نے کہا کہ پاکستان میں آج کی سکھ برادری ان لوگوں کی آل اولاد ہے جنہوں نے سنہ 1947 میں پاکستان منتقل ہونے کا فیصلہ کیا، اپنے گھر بار اور املاک پیچھے چھوڑ دیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں سکھ "خود کو معاشرے کا ایک تکمیلی جزو تصور کرتے ہیں۔"

انہوں نے کہا، "میں نے ایک گردوارے [سکھوں کی عبادت گاہ] میں ایک اسکول کا آغاز کیا ہے۔ سکھوں کے علاوہ، ہندو اور مسلمان بچے بھی اس میں پڑھتے ہیں۔"

انہوں نے مزید کہا کہ اسکول کا مقصد مختلف مذہبی برادریوں کے مابین اعتماد سازی کرنا ہے تاکہ وہ امن سے رہ سکیں۔

انہوں نے کہا کہ پشاور میں 20-19 مئی کو ہونے والی نشست جیسی نشستیں باہمی تعامل کے ذریعے غلط فہمی اور دشمنی کو کم کرنے میں مدد کریں گی۔

پشاور کے ایک اسکول کے استاد اور عیسائی برادری کے نمائندے عامر شہزاد نے سینٹرل ایشیاء آن لائن کو بتایا، "لوگوں کو قیامِ امن کی تحریک دینے کے لیے ۔۔۔ باہمی اعتماد اور بھروسے کو پروان چڑھانے کی ضرورت ہے۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 0

0 تبصرے

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

کیا آپ دہشت گردی میں سرمایہ کاری اور رقوم کی غیر قانونی ترسیل پر قابو پانے کے لیے پاکستان کے عملی اقدامات سے مطمئن ہیں؟

نتائج