آرکائیوز برائے

منتخب شدہ

سفارتی ذرائع نے متنبہ کیا ہے کہ پاکستان اور ہندوستان کی سرحد پر گرما گرمی افغانستان میں امن کی کوششوں کو تباہ کر دے گی۔

اس مہم کا مقصد کے پی کو پھلوں کی پیداوار میں خودکفیل بنانا، بچوں کی خوراک کی ضروریات کو پورا کرنا اور عوام کے لیے پھلوں تک رسائی فراہم کرنا ہے۔

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے سرمایہ کاری کے منصوبوں میں 20 بلین ڈالر کا وعدہ کیا ہے اور سعودی جیلوں سے 2،000 سے زائد پاکستانیوں کی فوری رہائی کا حکم دیا ہے۔

فوجی حکام کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے طالبان اور داعش میں شکوک بڑھ رہے ہیں وہ اپنی صفوں سے جاسوسوں کا خاتمہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور افغان افواج دونوں گروہوں کے خلاف بھرپور مہمات شروع کر رہی ہیں۔

مشترکہ بیان کو 'عیسائیوں اور مسلمانوں کے درمیان مکالمے میں ایک اہم پیش رفت' تصور کیا جا رہا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس قدم سے ان افراد کے لیے ستائش کا اظہار ہوتا ہے جنہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی جانوں کا نذرانہ دیا اور عسکریت پسندی سے متاثر ہونے والے بچوں کی مالی امداد ہو گی۔

اگر قانون منظور ہو جاتا ہے، تو اس کی رُو سے ایک کمیشن قائم کیا جائے گا جو خیراتی اداروں کا اندراج کرے گا اور عطیات جمع کرنے کی نگرانی کرے گا۔

تھیسپیانز تھیئیٹر 14 جنوری سے 31 جولائی تک کراچی بھر میں 11 مقامات پر 330 شو منعقد کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

ایک مشہور ہو جانے والی ویڈیو جس میں پولیو کے قطرے پلانے والے کارکن کو بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کے لیے گہری برف سے گزرتے ہوئے دکھایا گیا ہے، نے ان غیر ستائش شدہ ہیروز کے لیے تعریفیں اکٹھی کیں جو اس بیماری کا خاتمہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

افغانستان اور پاکستان ان ممالک میں شامل تھے جنہیں لگ بھگ 800 پیجز، گروپس اور اکاؤنٹس کی جانب سے 'ایرانی ہدایات پر' نشانہ بنایا جا رہا تھا جنہیں فیس بُک نے غلط معلومات کے خلاف کارروائی کے جزو کے طور پر شناخت کیا تھا۔

صدر اشرف غنی نے نائب چیف ایگزیکٹو محمد محقق کو برخاست کر دیا ہے. ایک ایسا اقدام جس کے بارے میں مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ محض ایک سیاسی اقدام نہیں ہے اور اس کا مقصد افغانستان کے قومی مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔

یہ پروگرام، جس کا آغاز دو سال پہلے کے پی میں ہوا تھا، کو غربت کی سطح سے نیچے رہنے والے 80 ملین پاکستانیوں کو صحت عامہ کی مفت سہولیات فراہم کرنے کے لیے وسیع کر دیا گیا ہے۔

عدالتِ عالیہ نے مسلح افواج کی سیاسی سرگرمی کی آئینی ممانعت کا حوالہ دیا۔

قبائلی عمائدین کا کہنا ہے کہ قبائلی علاقے کو کھولنا دہشت گردوں کے خلاف ایک فتح اور معاشی ترقی کے لیے ایک موقع کی نمائندگی کرتا ہے۔

اعلیٰ سطحی عہدیداران نے سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا، جبکہ طرفین کے تاجر کاروبار میں تیزی سے اضافے سے متعلق پرامّید ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ سابقہ قبائلی اضلاع میں مقامی انتخابات آنے والے مہینوں میں منعقد کیے جائیں گے۔

موجودہ کوششیں، پاکستان ٹکنیکل اسسٹینس پروگرام کے تحت، 2007 میں شروع ہونے والے 500 ملین ڈالر کی لاگت کے امدادی اور ترقیاتی منصوبوں کے ایک سلسلے کا حصہ ہیں۔