آرکائیوز برائے

منتخب شدہ

مشاہدین اور شرکاء کا کہنا ہے کہ افغانستان کے بارے میں تاشقند کانفرنس میں شرکت نہ کرنے سے طالبان نے ممکنہ طور پر اپنے مقصد کو ہی نقصان پہنچایا ہے۔

عہدیداران اور سابق طالبان ارکان کا کہنا ہے کہ تہران کے احکامات کے بعد، طالبان نے ملک کو کمزور رکھنے کی کوشش میں افغانستان میں بنیادی ڈھانچے کے کلیدی منصوبوں کو تباہ کرنے پر نظریں جما رکھی ہیں۔

پُرعزم ملٹی میڈیا مقابلوں میں امن فساد سے بالا، بین المذاہب ہم آہنگی، انتہاء پسندی کے خلاف بازگشت اور دہشت گردی کی حمایت چھوڑو کے موضوعات شامل تھے۔

آزادانہ طور پر تحقیقات کرنے والوں نے کریملین کا یہ دعوی مسترد کر دیا ہے کہ ویگنر گروپ کے زرخرید فوجی، رضاکار ہیں اور ان کا تعلق روسی فوج سے نہیں ہے۔

8,000 سے زائد سیکیورٹی اہلکاروں نے کھلاڑیوں اور تماشائیوں کو تحفظ فراہم کیا۔

خواتین کے لیے مخصوص ٹیکسی کی سہولت، جس کا آغاز گزشتہ سال مارچ میں کراچی میں ہوا تھا، نے جنوری سے پشاور میں بھی کام کرنا شروع کر دیا ہے۔

اس اقدام کا مقصد حافظ محمّد سعید کی قیادت میں کالعدم جماعت الدعویٰ اور اس کی خیراتی شاخ فلاحِ انسانیت فاوٴنڈیشن کی سرگرمیوں کو روکنا ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ ماہ کے آخر میں افغان صدر اشرف غنی کے اعلان کردہ امن منصوبے پر خاموشی اشارہ کرتی ہے کہ طالبان اپنی اگلی چال پر غور کر رہے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند سالوں کے دوران ہزاروں افسران کو بدعنوانی کے الزامات پر تعزیری کاروائیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے جس سے کارکردگی میں قابلِ قدر اضافہ ہوا ہے اور بد انتظامی میں کمی آئی ہے۔

سیکورٹی کی بہتر صورت حال کے ثمرات سامنے آ رہے ہیں اور پاکستان نے اس سال پی ایس ایل کے تین میچ کروانے کا شیڈول طے کر لیا ہے: لاہور میں دو پلے آف اور کراچی میں فائنل میچ۔

ایران کے وزیرِ خارجہ محمّد جاوید ظریف کے دورہٴ پاکستان، جس کو بڑے پیمانے پر مسترد کیا گیا، کے چند ہی روز بعد اختتامِ ہفتہ پر ایرانی افواج نے پاکستان کی سرزمین پر بلا اشتعال گولہ باری کی۔

داعش کی طرف سے افغانستان آنے والے عسکریت پسندوں کو افغان اور اتحادی فورسز کے ہاتھوں صرف موت، عسکریت پسندوں کے خلاف عوام کا کھڑا ہو جانا اور طالبان کی طرف سے مزاحمت ہی ملے گی۔

سرحد کی دونوں جانب کے کاروباری رہنما ان مواقع کے منتظر ہیں جو سرحدی چوکیوں کے دوبارہ کھلنے سے پیدا ہوں گے۔

تحریک طالبان پاکستان نے اس بم دھماکے کی ذمہ داری قبول کی ہے جس میں کم از کم 10 پاکستانی شہری ہلاک ہو گئے تھے جن میں چھہ پولیس افسران بھی شامل تھے۔

اپنے حالیہ دورے کے دوران ایرانی وزیرِ خارجہ محمد جاوید ظریف نے جو کچھ بھی کہا اس کے باوجود، ایران کی بڑھتی ہوئی جارحیت دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان بداعتمادی کو پروان چڑھا رہی ہے۔

اگرچہ گُڑ بنانے میں کچھ سائنسی ترقی دیکھی گئی ہے مگر صدیوں پرانا یہ عمل ابھی بھی کافی حد تک پہلے جیسا ہی ہے۔

تمام بڑی سیاسی جماعتوں نے حال ہی میں سابقہ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اور وزیرِ خارجہ خواجہ محمد آصف کے خلاف جوتا اور سیاسی پھینکنے کے حملوں کی مذمت کی ہے۔

پاکستانی مفادات کے خلاف طالبان حملوں کو مربوط کرنے سے لے کر معصوم پاکستانی شعیوں کو بنیاد پرست بنانے تک، ایرانی وزیرِ خارجہ ظریف کو ایران کی بڑھتی ہوئی جارحیت سے متعلق کافی چیزوں کی وضاحت کرنا ہے۔

وزیرِ داخلہ احسان اقبال کا کہنا ہے کہ پاکستان کی سیکورٹی فورسز دہشت گردی کے کے خلاف جنگ لڑ رهے ہیں۔

حکام اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان اور افغانستان ساتھ مل کر ہی ایران کی بڑھتی ہوئی جارحیت اور خطے میں اس کے مفسدانہ رسوخ کا انسداد کر سکتے ہیں۔

تعلیم دانوں کا کہنا ہے کہ غیر نصابی سرگرمیاں قبائلی لڑکیوں کو زیادہ پُراعتماد بنانے میں مدد کرتی ہیں اور انہیں ایک روشن تر مستقبل کی راہ پر گامزن کرتی ہیں۔

اسلام آباد کے مقامی سینٹر فار ریسرچ اینڈ سیکیورٹی سٹڈیز کے مطابق، پچھلے سال کے مقابلے میں سنہ 2017 میں دہشت گردوں کی وجہ سے ہونے والی اموات میں 21 فیصد کمی ہوئی۔

مرکزی جیل پشاور نے موبائل فون کی مرمت کی ورکشاپ شروع کی ہے تاکہ رہائی کے بعد، قیدیوں کو اپنی زندگیوں کو دوبارہ شروع کرنے اور جرائم سے دور رہنے میں مدد فراہم کی جا سکے۔

تہران نے افغانستان میں ہونے والی ایک تقریب جس میں پاکستانی وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی شریک تھے پر حملے کا حکم دینے کے مبینہ الزامات پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔

پاکستان علماء کاوٴنسل (پی یو سی) خطے میں بطورِ خاص چاہ بہار بندرگاہ کی تکمیل سے متعلق ایران کی ’جاسوسی اور دہشتگردی‘ کی کاروائیوں کے خلاف تنبیہ کر رہی ہے۔

حکام کے مطابق پاکستان میں افغان طلباء کے لیے تعلیمی مواقع دونوں ملکوں کے درمیان مضبوط تعلقات کی علامت ہیں۔

تازہ ترین خبریں