آرکائیوز برائے

منتخب شدہ

حکام نے حافظ سعید اور جماعت الدعوۃ کے چار ارکان کو ایسی سرگرمیوں میں ملوث ہونے پر گرفتار کر لیا ہے جو پاکستان کے اقوامِ متحدہ کے لیے فرائض کی خلاف ورزی ہیں۔

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ پاکستانی فضائیہ (پی اے ایف) آپریشن ضربِ عضب میں انتہائی اہم کرادر ادا کر رہی ہے اور زمینی افواج کی فضائی حملوں اور فضائی نگرانی سے مدد کر رہی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ حکومتی ضوابط اور کامیاب دفاعی کارروائیوں کا نتیجہ معاشی ترقی اور سرمایہ کاری کی صورت میں نکل رہا ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ طالبان اپنے ہی اندرونی جھگڑوں کے گرداب میں پھنس رہے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے، عسکریت پسند غیر قانونی طور پر رقم کی منتقلی کے نظام جیسے کہ ہنڈی سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، جو کے پاکستان کی معیشت کے لئے بھی نقصان دہ ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ شمالی وزیرستان کے گھر بدر افراد کی صوبہ خوست سے واپسی شروع ہو چکی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ سرکاری اسکولوں میں تعیناتی کی غرض سے حکومتِ پنجاب 4,000 سے زائد گارڈ بھرتی کر رہی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ پولیس کی کارروائیوں اور فوجی آپریشنوں نے سالوں میں دہشت گردی کے واقعات کم کرنے میں حصہ ڈالا ہے۔

عسکری اور مذہبی راہنماؤں کا کہنا ہے کہ دہشت گرد اپنی کھوئی ہوئی نسبت کو دوبارہ حاصل کرنے میں ناکام رہیں گے اور پاکستانی متحد ہی رہیں گے۔

محکمہ کئی انواع کی سماجی برائیوں کے خلاف لڑنے کے لیے عمائدین کی مدد چاہتا ہے۔

ماہرین نے دیارونا کو بتایا کہ "دولتِ اسلامیہ عراق و شام" کو گزشتہ سال سرمایے اور افرادی قوت دونوں کی صورتوں میں بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

پشاور میں پیراپلیجک سنٹر ضرورت کے مطابق وہیل چیئرز بنا کر صارفین کو بہتر نقل و حرکت اور عمومیت کا احساس دے رہا ہے۔

سنہ 2016 میں پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے مخبری کی بنیاد پر 25،000 کارروائیاں (آئی بی اوز) کیں، بشمول 11،000 جو صرف پنجاب میں ہوئیں۔

دونوں ممالک نے انتہاپسندی کے خلاف لڑنے اور اقتصادی تعلقات کو بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کی اتحادیوں کے ساتھ انسداد دہشت گردی مشقیں افواج کی علاقائی عسکریت پسندی کو ختم کرنے کی صلاحیتوں میں اضافہ کریں گی۔

آپریشن ضربِ قلم کا مقصد آپریشن ضربِ عضب کی ثقافتی تکمیل کرنا ہے۔

محکمۂ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ عسکری آپریشن میں عسکریت پسندوں کی شکست کے بعد پاکستان کے قبائلی علاقہ جات پولیو سے تقریباً پاک ہیں۔

کامیاب فوجی آپریشن کے بعد، حکومت جنگجوؤں کی مالی امداد کے گٹھ جوڑ کو توڑنے پر توجہ مرکوز کر رہی ہے۔

سینٹر برائے ریسرچ و سیکورٹی اسٹڈیز (سی آر ایس ایس) کے مطابق، پاکستان میں 2016 کے دوران تشدد سے متعلقہ ہلاکتوں میں 44 فیصد کمی دیکھی گئی ہے جو 2014 کے مقابلے میں 66 فیصد کمی ہے۔

وفاق کے زیرِانتظام قبائلی علاقے (فاٹا) فوج کی طرف سے طالبان کو نکالے جانے اور ترقی کے لیے راہ ہموار کرنے والی مہم کے بعد، کھیلوں میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔

ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ رینجرز 2016 میں ٹارگٹ کلنگ میں 91 فیصد کمی اور دہشتگردی کے واقعات میں 72 فیصد کمی کی وجہ ہیں۔

کوہاٹ کے عمائدین اور مکینوں نے کہا کہ بھاری ہتھیاروں اور بارودی مواد شہریوں کے خلاف دہشت گردی میں سہولت کاری کرتا۔

فوج اور خیبر ایجنسی کے حکام نے ماہرینِ آثارِ قدیمہ کو ورثہ کی 110 جگہوں کا سروے کرنے میں مدد فراہم کی۔

حکام کا کہنا ہے کہ وسط ایشیائی ممالک اور افغانستان عسکریت پسند تنظیموں سے اپنی سرحدوں کی حفاظت کے لیے کام کر رہے ہیں۔

تازہ ترین خبریں