| انتخابات

مستونگ میں ہونے والے قتل عام کے تناظر میں انسداد دہشت گردی آپریشن جاری

مستونگ بلوچستان میں ہونے والے انتخابی جلسے کے دوران داعش کے ایک خودکش بمبار نے کم ازکم 149 افراد کو شہید کر دیا اور قتل عام سے تعلق کے شبہے میں اب تک 9 گرفتاریاں کی گئی ہیں۔

اے این پی کے قتل کیے جانے والے راہنما ہارون بشیر بلور کے بیٹے دانیال بلور نے کہا کہ "میں پاکستان کے لیے اپنی جان بھی قربان کرنے کے لیے تیار ہوں"۔

ایک حالیہ تحقیق کے مطابق، پاکستان میں امن لانے میں قومی ایکشن پلان نے بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

تمام جماعتوں سے تعلق رکھنے والے سیاسی قائدین نے عہد کیا ہے کہ وہ دہشت گردوں کے سامنے نہیں جھکیں گے اور انتخابات کے ذریعے امن کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے۔

تقریبا 15,000 تماشائیوں نے 9 جولائی کو شندور پولو فیسٹیول کے فائنل میچ میں شرکت کی۔

اگرچہ 25 جولائی کے عام انتخابات سے قبل چند دہشتگردانہ حملے ہوئے ہیں، تاہم پاکستانی حکام سیکیورٹی فراہم کرنے میں چوکنا ہیں۔

فروری میں چڑیا گھر کے کھلنے سے لے کر اب تک 34 سے زیادہ جانوروں کی ہلاکتوں کے باجود، ہزاروں مہمان روزانہ چڑیا گھر آتے ہیں۔

انتخاب

ٹی ٹی پی کے مستقبل کے لیے ملا فضل اللہ کی موت کا کیا مطلب ہے؟

نتائج